GulPlazaFireinKarachiSurvivor

گل پلازہ میں زندہ بچ جانے والی خاتون کے تہلکہ خیز انکشافات

(روزنامہ جرأت) گل پلازہ سانحے میں زندہ بچ جانے والی خاتون نے آنکھوں دیکھا حال بیان کر دیا۔خاتون نے بتایا کہ میری دکان بیسمنٹ میں تھی جس میں بعد میں آگ لگی، میں دکان پر تھی عام دنوں کی بہ نسبت ہفتے کی رات کو بہت رش ہوتا ہے، دو ایونٹس عید اور شادیوں کے آرہے تھے تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم لوگ تھوڑا تھوڑا کرکے سامان جمع کررہے تھے، کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو گل پلازہ نہیں جاتا ہو سب کو معلوم ہے کہ وہاں پر کتنی قیمتی چیزیں ملتی ہیں جو مناسب قیمت پر مل جاتی ہیں۔
دکان کی مالک خاتون نے بتایا کہ جب گل پلازہ بند ہونے کا وقت ہوتا ہے تو اعلان ہوتا ہے ہم سامان سمیٹ رہے تھے دس بجکر 7 منٹ پر آوازیں آئیں کہ آگ لگ گئی ہے بیسمنٹ میں بہت زیادہ دھواں بھر گیا تھا ہم لوگ وہاں سے بھاگے ، دھواں اتنا تھا کہ سامنے موجود شخص بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
خاتون نے بتایا کہ جب دس بجکر 20 منٹ پر ہم باہر نکلے ہیں تو اتنی آگ تھی کہ بجھ کر نہیں دے رہی تھی، گیٹ نمبر تین سے جو آگ لگی تھی وہ گیٹ نمبر ون تک پھیلتی جارہی تھی، لوگ کہہ رہے ہیں کہ شارٹ سرکٹ سے لگی ہے اگر ایسا ہوتا تو دو سے تین دکانوں کو نقصان پہنچتا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی اس وجہ سے بچ گئی کہ بروقت باہر نکل گئے اس کے بعد ہمیں چیزیں بچانے کے لیے جانے نہیں دیا گیا، کراچی میں لوٹ مار کی وجہ سے میں زیادہ پیسے دکان میں ہی رکھتی تھی، دکان کے ساتھ میری تمام جمع پونجی جل کر راکھ ہوگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں