کراچی:(روزنامہ جرأت) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول، وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کو سکیورٹی واپس دے دی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے بھی پیپلزپارٹی کے رہنما کا رابطہ ہوا ہے اور انہیں بھی سکیورٹی واپس ملنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم سکیورٹی واپس لینے کے ٹول کو پروپیگینڈا کے طورپر لے رہی ہے، لوگ پیاروں کی ڈیڈ باڈی ڈھونڈ رہے تھے، آپ سیاست کررہے تھے، وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزرا سے سکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول اسلام آباد میں ہیں، کیا وہ سکیورٹی اسلام آباد لے کر جائیں گے، خالد مقبول کو 10 سپاہی اور مصطفیٰ کمال کو اس سے زیادہ سپاہی دیے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لینے کی خبروں کی تردید کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس نہیں لی گئی، جن افراد کو قانون اور سکیورٹی کے پیش نظر سکیورٹی دی گئی ہے وہ فراہم کی جا رہی ہے، مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی اسلام آباد میں ہیں، کسی بھی شخص کو دی گئی سکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔علاوہ ازیں مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا تھا کہ سانحہ گل پلازہ پر تنقید کرنے پر سکیورٹی واپس لی گئی ہے جب کہ انہوں نے ایک بار پھر وفاق سے کراچی کو کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کیا۔




