(روزنامہ جرأت)اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہےکہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پرحکومت ایوان کو اعتماد میں لے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نےکہا کہ وزیراعظم نے فلسطین کے لیے غزہ بورڈ آف پیس کو بغیر مشورہ خوش آئند قرار دیا، حکومت نے ایوان کو نظر انداز کردیا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایوان میں لائے بغیر اس معاملے پر فیصلہ کرنا غلط ہے، بورڈ آف پیس میں کن شرائط پر شامل ہوئے؟ بتایا جائے۔
اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف اس معاملے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت انتہائی اہم معاملہ ہے، پاکستان کا اس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ حکومت کا فرض ہےکہ وہ بتائےکہ کیا فیصلے کر رہی ہے، آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے چلیں مت لیں، مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ہوتے ہوئے کیا متوازی حیثیت نہیں رکھتا؟
ان کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، فلسطینی بہت مجبور حالت میں ہیں مگر ہم اپنی پالیسی تو ٹھیک رکھیں۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جواب میں کہا کہ امت مسلمہ اور قومی مفاد کے تحت فیصلے کرنے ہوتے ہیں، غزہ کی تعمیرنو اور مستقل فائر بندی کے لیے بورڈ آف پیس میں جانےکافیصلہ کیا، اس بات پر ہمیں اتفاق رائے کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔اپوزیشن رہنما




