(روزنامہ جرأت)بزرگ سیاستدان حاجی غلام احمد بلور نے 86 سال کی عمر میں انتخابی سیاست سے علیحدہ ہوگئے۔
بلور ہاوس میں پریس کانفرنس کے دوران سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے میری عمر کا بھی لحاظ نہیں کیا اور میری جیتی ہوئی سیٹ پر مجھے ہرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اس ملک و قوم کے لیے 55 سال سیاست کی لیکن اسٹیبلشمنٹ کو شائد نہ بکنے اور نہ جھکنے والوں کی ضرورت نہیں ہے، اسی لیے مجھے تین بار ہرایا گیا.اے این پی رہنما کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک نے بھارت کو تو جنگی میدان میں شکست دی لیکن معاشی میدان میں پیچھے پیں حکمرانوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ 18ویں ترمیم کو بکواس قرار دیتے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم 18ویں ترمیم قرارداد مقاصد کی طرح ہے، اگر اسے چھیڑا گیا تو ملک کو نقصان ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ میری نشست پر کون الیکشن لڑے گا یہ پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے، میں ایک مضبوط پارٹی چھوڑ کر جارہا ہوں جب کہ پشاور چھوڑ کر جارہا ہوں لیکن اسی مٹی میں ہی دفن ہوں گا ۔انہوں نے کہا کہ میں پشاور کے لوگوں کا بہت مشکور ہوں پشاور کے لوگوں نے مجھے عزت دی اور ہمیشہ میرا ساتھ دیا مجھے 5 بار اسمبلی بھیجا پشاور میرا گھر ہے اور پشاور کے لوگ میرے اپنے لوگ ہیں.




