pakvsindia

میچ کے بائیکاٹ پر کیا آئی سی سی پاکستان کو سزا دے سکتا ہے؟ سابق چیئرمین کا انکشاف

(روزنامہ جرأت)بھارت کیخلاف میچ کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد بھارتی میڈیا آئی سی سی پر پاکستان کو سزا دینے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سابق چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے خلاف گروپ میچ کے بائیکاٹ پر کسی قسم کی سزا نہیں دی جا سکتی، کیونکہ یہ فیصلہ حکومتی ہدایات کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا دائرہ کار آئی سی سی کے تادیبی اختیارات سے باہر ہے۔پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ قومی ٹیم 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے ہائی پروفائل میچ میں بھارت کے خلاف میدان میں نہیں اترے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں حکومت پاکستان نے واضح کیا کہ ٹیم ٹورنامنٹ کے باقی میچز شیڈول کے مطابق کھیلے گی۔
سابق چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے اس حوالے سے کہا کہ اگر پاکستان حکومتی احکامات پر عمل کر رہا ہے تو اس پر پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔احسان مانی نے چیمپئنز ٹرافی 2025 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہی اصول اس وقت بھی لاگو ہوا تھا جب بھارت نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔
انہوں نے آئی سی سی پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
دوسری جانب آئی سی سی نے پاکستانی حکومت کی ہدایت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ منتخب میچز میں عدم شرکت کے نتائج ہو سکتے ہیں۔آئی سی سی کے مطابق یہ اقدام عالمی کھیلوں کے ایونٹ کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔واضح رہے کہ میچ کے بائیکاٹ کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ابھی تک آئی سی سی کو باضابطہ خط نہیں لکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں