statebankgoverner

نئےکرنسی نوٹوں کا ڈیزائن منظوری کے بعد وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے: گورنر اسٹیٹ بینک

اسلام آباد:(روزنامہ جرأت)گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہےکہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ نے منظوری کے بعد وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق آگاہ کیا۔انہوں نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ نے منظوری کے بعد وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے، حکومت کی منظوری کے بعد نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جائیں گے جب کہ 5 ہزار روپے کا نوٹ ختم کرنے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
اس دوران سینٹر عبدالقادر کا کہنا تھا کہ لوگ تین چار سال کا سپر ٹیکس کیسے دیں گے، اس طرح تو آپ لوگوں کو ملک سے نکال رہے ہیں، ایف بی آر جس طرح ہراساں کر رہا ہے وہ درست نہیں ہے، لوگوں سے فوری ٹیکس ادائیگی کی بجائے اس ٹیکس کی وصولی دو تین سال میں کی جائے۔اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا آئینی عدالت نے تو کہہ دیا کہ سپر ٹیکس پارلیمان کا اختیار ہے لیکن اس سے لوگوں پر دباؤ اور بوجھ بڑھا ہے، ایک ہی کلاس سے بار بار ٹیکس ریونیو سے اضافہ کوئی ریوینیو ماڈل نہیں ہے۔اس موقع پر چیئر مین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کچھ کیسز می سپر ٹیکس کی اقساط بھی کر دیں گے، سپر ٹیکس کی کل وصولی 217 ارب روپے بنتی ہے، ٹیکس دہندگان کا ٹیلی فون پر پیغام بھیجنے سے ان کی تعداد میں 10 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جس پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ انہیں بھی ایف بی آر کا پیغام ملا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں