’میرے شوہر نے جنسی خواہشات کی تسکین کے لیے چھ لاکھ پاؤنڈ چرائے‘: وہ ادویات جن کے ذیلی اثرات خاندانوں کو تباہ کر رہے ہیں

فرانسیس ابھی اپنے دفتر پہنچی ہی تھیں کہ انھیں موصول ہونے والی ایک فون کال نے اُن کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

پولیس نے اُن کے شوہر اینڈیو کو اپنے مؤکلین کو دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اُن کے گھر کی تلاشی لے رہے تھے۔

فرانسیس کے شوہر اینڈریو پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔

اینڈریو کا دفتر کرائم فلموں میں دکھائے جانے والے کسی منظر کے جیسا لگ رہا تھا، یعنی ان کے دفتر کے ارد گرد زرد ٹیپ باندھ دی گئی تھی تاکہ عام عوام جائے وقوعہ سے دور رہے، جبکہ اہلکار ان کے دفتر سے ملنے والے شواہد کو ڈبوں میں بھر رہے تھے۔

اینڈریو جو قانونی فرم چلاتے تھے وہ کئی بزرگ افراد کے لیے پاور آف اٹارنی رکھتی تھی، لیکن بعدازاں پولیس نے دریافت کیا کہ اینڈریو اپنے مؤکلین کے لاکھوں پاؤنڈ ہڑپ کر چکے ہیں اور آگے چل کر انکشاف ہوا کہ انھوں نے یہ رقم بالغ ویب کیم سائٹس، جنسی کارکنوں اور نوادرات کی خریداری پر خرچ کی تھی۔

یہ واقعہ 12 سال پہلے کا ہے۔ بعدازاں عدالتی سماعتوں کے دوران بتایا گیا کہ اینڈریو کا یہ بے قابو رویہ پارکنسنز کی بیماری کے علاج کے لیے دی جانے والی دوائیوں کے زیر اثر تھا۔

انھوں نے اپنے 13 کلائنٹس (مؤکلین) کی رقم غبن کی تھی، جن میں سے زیادہ تر 80 سال سے زائد عمر کے بزرگ تھے اور بیمار تھے۔ مجموعی طور پر اینڈریو نے اپنے 13 کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے چھ لاکھ پاؤنڈ نکالے تھے۔

اینڈریو کی ایک مؤکل 87 سالہ بزرگ خاتون تھیں، جو نرسنگ ہوم میں رہتی تھیں اور اپنی رقم کی چوری کے کچھ ہی دنوں بعد ان کی وفات ہو گئی۔ اس موقع پر ان کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ اُن کی آخری رسومات ادا کی جا سکتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں