اسلام آباد:(روزنامہ جرأت) اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبہ لائبہ کے خودکشی کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آگئے، ہلاک ملزم نعمان نے لائبہ کے علاوہ 21 لوگوں کے ساتھ فراڈ کیا، دوران تفتیش ملزم نعمان سے 21 جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر ملے۔ذرائع کے مطابق ملزم نعمان نے 21 مختلف لوگوں کو وزارت دفاع میں ملازمت کے جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر دئیے، ملزم نعمان نے ان سب لوگوں سے اپوائنٹمنٹ لیٹر دینے کے عوض پیسے لیے، ملزم نعمان نے اپنے 4 کزنوں کو بھی جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر دئیے۔دریں اثنا گولڈمیڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز خودکشی کے معاملے میں آئی جی اسلام آباد سہیل چوہدری لائبہ اعجاز کے گھر پہنچ گئے، آئی جی اسلام آباد نے لائبہ اعجاز کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔
دریں اثنا وزیر داخلہ محسن نقوی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ لائبہ کے گھر پہنچے اور والد سے ملاقات کی۔لائبہ کے والد رانا اعجاز نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وزیر داخلہ سمیت سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میرے ساتھ جو حادثہ ہوا اس کو بھول نہیں سکتا لیکن پاکستانی عوام میرے ساتھ ہیں اس بات پر سکون ملتا ہے، میری بیٹی بیرون ملک جانا چاہتی تھی اور ملک کی خدمت کرنا چاہتی تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس سے ہمیشہ حوصلہ ملا، ہمیں بتایا گیا کہ ملزم کے خلاف مزید کیسز سامنے آئے ہیں، ملزم نے مانسہرہ میں بھی بچیوں سے پیسے لے رکھے تھے، میری جو رقم تھی وہ مجھے دے دی گئی ہے۔




