daynightduration

آج سال کا وہ منفرد دن ہے جب دن اور رات کا دورانیہ یکساں ہو جائے گا

(روزنامہ جرأت)پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ 20 مارچ کو لگ بھگ یکساں ہو جائے گا۔20 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 46 منٹ پر اعتدال ربیعی یا Spring Equinox کا آغاز ہوگا۔یہ وہ موقع ہوتا ہے جب سورج شمال کی طرف جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ 12، 12 گھنٹے کا ہوجائے گا۔خیال رہے کہ خط استوا دنیا کے نقشے پر بالکل درمیان میں کھینچا گیا ایک فرضی خط یا لکیر ہے جو ہماری دنیا کو شمال اور جنوب کی طرف دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔اعتدال ربیعی کے موقع پر چونکہ سورج خط استوا کے اوپر ہوتا ہے تو دنیا میں لگ بھگ ہر جگہ سورج کی روشنی یکساں مقدار میں پہنچتی ہے۔اعتدال ربیعی کے موقع پر سورج عین مشرق سے طلوع اور عین مغرب میں غروب ہوگا اور اس وجہ سے یہ ایک اہم فلکیاتی ایونٹ ہے۔ایسا ہی ستمبر میں بھی ہوتا ہے جب اعتدال خریفی یا September equinox کا آغاز ہوتا ہے، اس وقت سورج شمالی سے جنوبی نصف کرے کی جانب جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے۔یہ ایسا موسمیاتی مظہر ہے جو سال میں 2 بار ہوتا ہے۔پہلے مارچ اور پھر ستمبر میں سورج کی شعاعیں براہ راست خط استوا سے ٹکراتی ہیں۔اس کے نتیجے میں لگ بھگ ہر جگہ دن اور رات کا دورانیہ یکساں ہو جاتا ہے (کچھ خطوں میں ایسا نہیں ہوتا)۔
اعتدال ربیعی ہر سال 19، 20 یا 21 مارچ کو کسی وقت ہوتا ہے جبکہ اعتدال خریفی کا آغاز ہر سال 21 سے 24 ستمبر کے دوران کسی وقت ہوتا ہے۔یہ ایک عارضی وقفہ ہوتا ہے جس کے بعد دن کا دورانیہ بڑھنے یا گھٹنے لگتا ہے، جس کا انحصار شمالی یا جنوبی نصف کرے پر ہوتا ہے۔
پاکستان میں اعتدال ربیعی کا مطلب موسم بہار کا آغاز ہے۔جیسے جیسے سورج شمال کی جانب بڑھتا ہے، شمالی نصف کرے میں گرم مہینوں کا آغاز ہوتا ہے، جس دوران دن کا دورانیہ بڑھنے لگتا ہے جبکہ راتیں مختصر ہو جاتی ہیں۔
جنوبی نصف کرے میں بالکل مختلف اثر ہوتا ہے اور وہاں اعتدال ربیعی سے موسم خزاں کا آغاز ہوتا ہے۔وہاں دن کا دورانیہ گھٹنے لگتا ہے جبکہ راتیں طویل ہونے لگتی ہیں اور اور بتدریج موسم سرد ہونے لگتا ہے۔
واضح رہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے مدار میں ایک جانب جھکتی ہے جس کے نتیجے میں سال میں کچھ مواقعوں پر سورج کی روشنی اور حرارت زیادہ یا کم مقدار میں براہ راست ہمارے سیارے تک پہنچتی ہے۔جون میں خط سرطان یا Summer Solstice کا آغاز ہوتا ہے جبکہ دسمبر میں راس الجدی یا winter solstice کا آغاز ہوتا ہے۔
خط سرطان کا آغاز سال کے طویل ترین دن سے ہوتا ہے جس کے بعد دن کا دورانیہ گھٹنے لگتا ہے جبکہ راس الجدی کا آغاز سال کے مختصر ترین دن سے ہوتا ہے جس کے بعد دن کا دورانیہ بڑھنے لگتا ہے۔زمانہ قدیم میں موسموں کا اندازہ اعتدال ربیعی، اعتدال خریفی، خط سرطان اور راس الجدی سے لگایا جاتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں