operationghazablilhaq

آپریشن غضب للحق جاری؛ 331 طالبان کارندے ہلاک، پاک فضائیہ کے حملے میں افغان فوج کا ہیڈکوارٹرز تباہ

اسلام آباد:(روزنامہ جرأت)پاکستان کا افغان طالبان رجیم کیخلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے، افغان طالبان رجیم کو پاکستان کے ہاتھوں بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے 28 فروری صبح 9 بجے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا جس میں افغان طالبان رجیم کے 331 کارندے ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے۔
افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ جبکہ 22 چیک پوسٹوں پر پاک فوج نے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا، 163 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کردی گئیں۔ آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کی تکمیل تک جاری رہے گا۔
پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبے ننگرہار کی مہمند دھارا بیس میں 2 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، ننگرہار میں افغان فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بناکر تباہ کردیا گیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے قندھار میں فضائی حملے کے دوران افغان فوج کے ہیڈ کوارٹرز کو موثر انداز میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔افغان طالبان کی جارحیت کیخلاف پاک فوج کی بھرپور اور طاقتور جوابی کارروائیاں جاری ہیں، پاک افواج کامیابی سے افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کو تباہ کر رہی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ ترین کارروائیوں میں پاک افغان سرحد پر غلام خان سیکٹر میں افغان پوسٹ کو تباہ کردیا گیا، اعظم وارسک سیکٹرمیں بھی افغان طالبان کی شاگا پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں تشکیل کی دراندازی کو ناکام بنادیا گیا، متعدد دہشتگرد جہنم واصل ہوگئے۔ پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سیکٹرمیں افغانستان کی رحیم تھانہ پوسٹ کومکمل تباہ کردیا۔ پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں افغان طالبان کی اعلیٰ جرگہ تھانہ پوسٹ کو مکمل تباہ کردیا۔افغان طالبان کی جانب سے جمعرات کی شب شروع کی گئی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا تھا۔ افواج پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور موثر انداز میں منہ توڑ جواب دیا گیا۔پاک فضائیہ نے افغان صوبے لغمان، ننگر ہار میں کارروائیاں کر کے ہیڈکوارٹرز کو تباہ کیا جبکہ سرحدی علاقوں میں افغان چیک پوسٹوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی میں صوبہ لغمان میں اسلحہ ڈپو،اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ مکمل طورپر تباہ کردیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے مہمند سیکٹر کے قریب افغان چیک پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ پاک فوج نے افغانستان میں ایمونیشن ڈپو اور پٹرولیم (پی او ایل) کے بڑے ذخائر بھی تباہ کر دیے۔سیکیورٹی فورسز نے سرحد اور افغانستان کے اندر داخل ہوکر بھرپور کارروائیاں کیں جبکہ پاک فضائیہ نے قندھار، کابل، ننگرہار میں فضائیہ کارروائیاں کر کے افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔گزشتہ روز ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئرفورس فضائی حملوں میں کابل میں دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ کارروائیوں کے دوران دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ قندھار میں فضائی حملے کے دوران ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایمونیشن ڈیپو اور لاجسٹک بیس بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔افغان صوبے ننگرہار میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا۔مزید بتایا گیا تھا کہ پکتیکا میں ہونے والی کارروائی میں ایک کور ہیڈ کوارٹر کو بھی مؤثر فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔اس کے علاوہ پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے مقابل افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں پانچ افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔قبضے میں لی جانے والی چیک پوسٹوں میں دو شوال کے مقابل، دو انگور اڈہ کے مقابل اور ایک زرملان کے مقابل میں ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے مؤثر کارروائی کے دوران انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے بھرپور اور طاقتور جواب میں افغان طالبان فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے پاک افغان سرحد پر خوست میں افغان طالبان کی متعدد اہم پوسٹس کو مکمل تباہ کر دیا، پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی کی بعد افغان طالبان فوج نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرایا۔سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کوارڈ کاپٹر کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائیوں میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹوں اور کیمپس کو شدید نقصان پہنچا، افغان طالبان کے شپولا کیمپ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، خیبر پوسٹ ، قومی سر کمپلیکس اور خاور پوسٹ کو شدید نقصان پہنچا، اسی طرح بزدل افغان طالبان کے اہلکار ٹوپسر پوسٹ چھوڑ کر فرار ہوگئے جب کہ پاک فوج نے داؤد پوسٹ کو بھی مکمل تباہ کردیا۔افغان طالبان کے حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے اینٹی ڈرون سسٹمز نے تمام ڈرونز کو گرا دیا، ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ان واقعات نے ایک بار پھر افغان طالبان رجیم اور پاکستان میں دہشت گردی کے درمیان گھناؤنے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں اب تک افغان رجیم اور فتنۃ الخوارج کے 274 بندے مارے جاچکے ہیں اور 400 زخمی ہیں، 73 چیک پوسٹیں تباہ ہوچکی ہیں اور 18 پاکستان کے قبضے میں ہیں، 115 ٹینکس، آرٹلری گنز، اے پی سیز اور بکتر بند تباہ ہوچکی ہیں۔وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کا فوری اور موثرجواب دیا گیا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان نے کے پی کے مختلف سرحدی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر فوری اور موثر جواب دیا جا رہا ہے۔وزارت اطلاعات افغان طالبان نے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ میں سرحدی خلاف ورزی کی، پاکستان کے جواب پر افغانستان کو بھاری جانی نقصان ہوا جبکہ متعدد چیک پوسٹیں تباہ ہوگئیں۔
سیکیورٹی فورسز کے جاری کامیاب آپریشن ضرب للحق میں ہزیمت کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیئے۔گزشتہ رات باجوڑ کے سرحدی علاقوں لغڑئی اور گرد و نواح میں سرحد پار سے فائر کیے گئے مارٹر گولے گرنے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر خار اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔شیلنگ کے باعث ایک مقامی مسجد کی چھت اور دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلا اشتعال افغان جارحیت کا پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دی رہی ہیں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی سے افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے نہایت درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جبکہ ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر ، ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چکوال بھرپور جواب دیا گیا۔اس کے علاوہ سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں۔ سیکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت اور کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان جانب سے جارحیت پر فوری ٹینکوں کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کی کئی پوسٹیں تباہ کردیں جبکہ متعدد ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔طورخم بارڈر پر افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج نے مؤثر اور منہ توڑ جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو پسپا کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج کے بھرپور ردعمل کے باعث افغان طالبان دم دبا کر فرار ہو گئے۔سیکیورٹی فورسز کےمؤثر جواب کے بعد مہمند سیکٹر کے قریب افغان طالبان چوکیاں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان تورخم بارڈر سے ٹرکوں پر سامان لاد کر علاقے سے نکل گئے، جبکہ پاکستانی فورسز نے سرحدی دفاع کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں