(روزنامہ جرأت)پاکستان کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے جڑے معاشی و سماجی مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین کو ذمے دارانہ منصوبہ بندی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے کہا کہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کا رزق مقرر کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ والدین کی یہ ذمے داری بھی بنتی ہے کہ وہ اپنی مالی استطاعت، وسائل اور بچوں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔
انہوں نے کہا کہ محض زیادہ بچوں کی پیدائش کافی نہیں بلکہ ان کی مناسب تعلیم، بہتر تربیت، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی والدین کی ذمے داری ہے۔ ان کے بقول اگر کسی کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں کہ وہ بچوں کو معیاری زندگی فراہم کر سکے تو پھر سات یا آٹھ بچوں کو دنیا میں لانا دانشمندانہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ ہر خاندان کو اتنے ہی بچوں کی ذمے داری اٹھانی چاہیے جنہیں وہ اچھا مستقبل، مناسب تعلیم اور بہتر مواقع فراہم کر سکے۔ ان کے مطابق بچوں کی تعداد سے زیادہ ان کی پرورش اور معیارِ زندگی اہم ہونا چاہیے۔
اداکارہ نے ماضی کی سرکاری اور سماجی آگاہی مہمات کا حوالہ دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک وقت تھا جب خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی میں توازن کے حوالے سے باقاعدہ مہمات چلائی جاتی تھیں، مگر اب ایسی سرگرمیاں بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت محدود وسائل، معاشی دباؤ اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں آبادی کے مسئلے پر سنجیدہ گفتگو اور مؤثر آگاہی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر اور مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکے۔




