(روزنامہ جرأت)پاکستان کی ورسٹائل سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری کے شوہر اقبال حسین نے خواتین و مرد کی شادی کی عمروں کے حوالے سے معاشرے کے دہرے معیار پر اعتراض کیا ہے۔حال ہی میں ایک شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اقبال حسین نے کہا کہ ’50 سے 60 سال کا مرد اگر 18 سال کی لڑکی سے شادی کرلے تو لوگ کچھ نہیں کہتے لیکن وہیں اگر عورت چند سال چھوٹے مرد سے شادی کرلے تو لوگ برا بھلا کہنے لگتے ہیں’۔انہوں نے کہا ‘میری اور بشریٰ کی عمر میں تھوڑا سا فرق ہے جو مجھے محسوس کبھی نہیں ہوا لیکن لوگوں نے اتنی باتیں کیں کہ بشریٰ جیسی خاتون بھی گھبرا گئیں، یہ سوسائٹی کا المیہ ہے، دن رات لوگوں کو جج کرتی ہے’۔اقبال حسین کا مزید کہنا تھا کہ ‘میرے نزدیک معاشرے کے اندر کرپشن یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو جج کرتے ہیں، قیامت والے دن کا معاملہ ہم نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، اللہ کافی ہے ہمیں جج کرنے کے لیے، اگر میں آپ کی اچھائی نہیں دیکھ سکتا تو برائی دیکھ کر اسے دیوار پر ضرور لکھوں گا’۔
اس کے علاوہ انہوں نے پہلی بار انکشاف کیا کہ میں نوجوانی کے زمانے سے ہی بشریٰ انصاری کا بڑا مداح تھا، کالج کے دنوں میں بشریٰ انصاری کی رسالوں سے کاٹی گئی تصاویر اپنے پاس سنبھال کر رکھتا تھا۔اقبال حسین کے مطابق میں اکثر اسلام آباد بھی جایا کرتا تھا کیونکہ بشریٰ انصاری وہاں کام کرتی تھیں تاہم اس زمانے میں بشریٰ اپنی مصروف زندگی میں مگن تھیں اور انہیں میرے جذبات کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔
دوسری جانب بشریٰ انصاری نے بھی ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ 1990 کی دہائی میں ایک ٹی وی شو کی میزبانی کر رہی تھی جس میں نوجوان اقبال حسین بطور مہمان شریک ہوئے تھے، میں نے اس وقت اقبال کے بالوں کے انداز پر ہلکا پھلکا مذاق بھی کیا تھا لیکن اقبال نے کوئی جواب نہیں دیا، بعد میں اقبال حسین نے بتایا کہ وہ دراصل مجھے سامنے دیکھ کر اتنے متاثر اور حیران تھے کہ کچھ بول ہی نہیں پائے۔جوڑے کے مطابق یہی ان کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی جو برسوں بعد ایک خوبصورت رشتے میں تبدیل ہو گئی۔




