کراچی:(روزنامہ جرأت) ملک میں گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال سے برآمدی شعبوں کو 450 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل، نٹ وئیر ریڈی میڈ ولیدر گارمنٹس، ٹاول سیکٹر سمیت دیگر برآمد کنندہ شعبوں نے 9روزہ گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے بعد سی فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافے اور بحری جہازوں میں کنسائنمنٹس کے لیے مطلوبہ اسپیس نہ ملنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 روزہ ہڑتال کے دوران 450ارب روپے مالیت کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
برآمدی ایسوسی ایشنز کے چیف کوآرڈینیٹر محمد جاوید بِلوانی، پی ایچ ایم اے کے سینٹرل چیئرمین محمد بابر خان، ٹی ایم اے کے اطہر باڑی ودیگر نے کہا ہے کہ طویل تعطل کے باعث برآمدی کارگو کی نقل و حرکت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 9روزہ ٹرانسپورٹ ہڑتال کے بعد بھاری فریٹ اخراجات کے باعث برآمدات میں بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ 8اگست 2026 کو شروع ہونے والی ہڑتال کے نتیجے میں فیکٹریوں اور گوداموں سے برآمدی کنٹینرز کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم تک پہنچانے کا عمل شدید متاثر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے کیونکہ برآمد کنندگان کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنے سے ملک قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہوا ہے۔ہڑتال کے باعث برآمدی کارگو کی نقل و حمل میں خلل سے کنٹینرز مقررہ جہازوں تک نہیں پہنچ پائے، شپنگ اسپیس ضائع ہوئی جس کے بعد برآمد کنندگان کو محدود جہازوں کی جگہ کے حصول کے لیے کہیں زیادہ فریٹ نرخوں پر مقابلہ کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کے دوران متعدد کنٹینرز فیکٹریوں اور گوداموں میں پھنسے رہے اور مقررہ ٹرمینل کٹ آف اوقات کے اندر بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکے، جس کے نتیجے میں جہازوں پر بکنگ نہ ہوسکی، بکنگ منسوخ ہوئی یا اگلے جہازوں پر منتقل کی گئی جبکہ ڈیٹینشن، ڈیمریج اور اسٹوریج چارجز بھی عائد ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ رپورٹ شدہ تخمینوں کے مطابق ہڑتال کی وجہ سے تقریباً 50ارب روپے کا یومیہ معاشی نقصانات ہوئے ہیں، اس طرح سے 9روزہ ہڑتال میں مجموعی نقصان کا تخمینہ تقریباً 450ارب روپے لگایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تعطل کے بعد شپنگ لائنز نے مبینہ طور پر پاکستان سے برآمد ہونے والے کارگو کے لیے دستیاب جہازوں کی جگہ کم کردی ہے اور یہ گنجائش دیگر ممالک کی مارکیٹوں کو منتقل کردی ہے۔ نتیجتاً برآمد کنندگان کو فریٹ نرخوں میں غیر معمولی اضافے کا سامنا ہے۔ برآمد کنندگان کو موصول ہونے والی فریٹ معلومات کے مطابق امریکی مغربی ساحل کے لیے سمندری فریٹ تقریباً 1,800ڈالر سے بڑھ کر 8,500 ڈالر فی کنٹینر ہوگیا ہے، جو تقریباً 372 فیصد اضافہ ہے جبکہ امریکی مشرقی ساحل کے لیے فریٹ 1,800ڈالر سے بڑھ کر 8,000 ڈالر ہو گیا ہے، جو تقریباً 344فیصد اضافہ بنتا ہے۔مزید برآں 14 اور 15اگست کے دوران جنرل ریٹ انکریزز (GRI)، سرچارجز و دیگر کیریئر عائد کردہ ایڈجسٹمنٹس کے تحت فی کنٹینر 1,000ڈالر تک اضافی اضافہ بھی برآمد کنندگان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
جاوید بِلوانی نے کہا کہ یہ اضافہ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے قطعا ناقابلِ برداشت ہے۔ برآمد کنندگان 300 فیصد سے زائد فریٹ اضافے برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے منافع کی شرح میں خطرناک حد تک کمی اور عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت کا خاتمہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ دو دنوں میں اضافی فریٹ چارجز کی مد میں ڈالر کی بڑی مقدار بیرونِ ملک منتقل ہوئی۔ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد برآمدی شپمنٹس FOB بنیادوں پر ہوتی ہیں، جبکہ تقریباً 35فیصد شپمنٹس C&F/CFR اور دیگر فریٹ شامل شرائط کے تحت کی جاتی ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی فریٹ اخراجات کی براہِ راست ذمہ داری پاکستانی برآمد کنندگان پر عائد ہوتی ہے۔
تاہم FOB شپمنٹس بھی جہازوں میں جگہ کی قلت، شپمنٹ میں تاخیر اور بین الاقوامی خریداروں سے محرومی کے خطرے کے باعث شدید متاثر ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف پالیسی اعلانات اور مراعات کے ذریعے برآمدی اہداف حاصل نہیں کیے جاسکتے بلکہ حکومت کو ایک قابلِ اعتماد، بلاتعطل اور بین الاقوامی سطح پر مسابقتی برآمدی لاجسٹکس نظام بھی یقینی بنانا ہوگا۔




