غزہ میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے خلاف جماعت اسلامی نے کل بھر میں نماز جمعہ کے بعد ملک بھر میں فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بڑے شہروں میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی طرف پرامن مارچ کیا جائے گا۔ لاہور میں مسجد شہداء سے امریکی قونصلیٹ تک احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور حکومت و اپوزیشن کو بھی اس معاملے پر مؤثر موقف اختیار کرنے پر مجبور کریں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جانے والی تازہ بمباری میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ علاقے کی ناکہ بندی کر کے اشیائے خورونوش کی ترسیل روکنے کے بعد بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں اور متعدد لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے اس بمباری کو اپنی مشاورت سے کیا گیا حملہ قرار دے کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ براہ راست اس دہشت گردی میں شریک ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسلم ممالک بالخصوص عرب قیادت کی مجرمانہ خاموشی اسرائیل کی جارحیت کو تقویت دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کے مسلمان، خاص طور پر پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ فلسطینی عوام کے حق میں کیا عملی اقدام اٹھاتا ہے۔
انہوں نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستانی سیاست دان امریکی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف ہیں اور فلسطینیوں کے حق میں مؤثر آواز بلند نہیں کر رہے۔ اگر پاکستان کوئی جارحانہ پالیسی اختیار کرے تو عالمی برادری اس کی بات سننے پر مجبور ہو جائے گی، لیکن ہمارے حکمرانوں نے ہمیں کمزور اور بے اثر بنا دیا ہے۔
پاک افغان کشیدگی
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔ عالمی طاقتیں، خاص طور پر امریکا، دونوں ممالک کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ خطے میں بدامنی برقرار رہے.