nationalassembly

قومی اسمبلی؛ مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور محکموں کے 482ارب روپے کی ضمنی گرانٹس منظور

اسلام آباد: (روزنامہ جرأت)قومی اسمبلی نے مختلف وزارتوں ڈویژنوں اور محکموں کے 482ارب روپے ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ سے متعلقہ دستاویزات کے مختلف جدول ایوان میں پیش کیے۔ جدول منظور شدہ اخراجات 2026/27، جدول منظور شدہ ضمنی اخراجات 2024/25-2025/26، جدول منظور شدہ متجاوز اخراجات 2016/17-2024/2025 اور آڈٹ رپورٹس برائے سال 2025/2026 ایوان میں پیش کی گئیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایف بی آر ترمیمی بل 2026 بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا جس کی منظوری دے دی گئی۔اجلاس میں وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کی مالی سال 2024-25 کی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری کا عمل شروع کیا گیا۔سپلیمنٹری گرانٹس کی مد میں ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس کا 6 کروڑ 48 لاکھ روپے، کابینہ ڈویژن کے 30 کروڑ روپے، کامرس ڈویژن کے 5 ارب 61 کروڑ روپے، دفاعی ڈویژن کا 1 ارب 25 کروڑ 20 لاکھ روپے اور دفاعی خدمات کے 22 ارب 84 کروڑ روپے کا مطالبہ زر منظور کیا گیا۔
اسی طرح، وفاقی تعلیمی ادارہ جات گیریژن کے 1ارب 43 کروڑ 63 لاکھ روپے، پاور ڈویژن کے 43 ارب 10 کروڑ 60 لاکھ روپے، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن کے 25 کروڑ روپے جبکہ سپلیمنٹری گرانٹس کی مد میں گرانٹس، سبسڈیز اور متفرق اخراجات کے 37 ارب 89 کروڑ 27 لاکھ روپے کا مطالبہ زر منظور کر لیا گیا۔سپلیمنٹری گرانٹس کی مد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 2 ارب 69 کروڑ روپے، فارن افیئرز ڈویژن کے 9 کروڑ 2 لاکھ روپے، اطلاعات و نشریات ڈویژن کے 1ارب 80 کروڑ روپے، داخلہ ڈویژن کے 1 ارب 78 کروڑ 20 لاکھ روپے، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے 45 کروڑ 22 لاکھ روپے، کمبائنڈ سول آرمڈ فورسز کے 5 ارب79 کروڑ 35 لاکھ روپے اور امور کشمیر و گلگت بلتستان ڈویژن کے ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کا مطالبہ زر منظور کیا گیا۔
قانون و انصاف ڈویژن کے 4 کروڑ 96 لاکھ روپے، قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن کے 23 کروڑ 84 لاکھ روپے، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے 16 کروڑ 4 لاکھ روپے، قومی صحت خدمات ڈویژن کے 3 ارب 82 کروڑ 8 لاکھ روپے، پارلیمانی امور ڈویژن کے 5 کروڑ روپے، غربت کے خاتمے و سماجی تحفظ ڈویژن کے 10 کروڑ روپے اور اسپورٹس ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے کا مطالبہ زر منظور کیا گیا۔پاور ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 75 کروڑ روپے، نیوٹیک کے 2 ارب 75 کروڑ روپے کے ترقیاتی اخراجات، خزانہ ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 5 ارب 60 کروڑ روپے اور دیگر ترقیاتی اخراجات کے لیے 1 ارب 26 کروڑ 97 لاکھ روپے کا مطالبہ زر منظور کر لیا گیا۔
سپلیمنٹری گرانٹس کی مد میں داخلہ ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے یئے 1 ارب 10 کروڑ 60 لاکھ روپے، پیٹرولیم ڈویژن کے سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 20 کروڑ 79 لاکھ روپے اور سول ورکس پر سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 22 ارب 15 کروڑ روپے کا مطالبہ زر منظور کیا گیا۔کابینہ ڈویژن کے 96 کروڑ 75 لاکھ روپے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے 4 ارب روپے، نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے 25 کروڑ روپے، سپلیمنٹری گرانٹس کی مد میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے 7 کروڑ 62 لاکھ روپے، موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے 15 کروڑ روپے اور کامرس ڈویژن کے 7 ارب 50 کروڑ روپے کے مطالبات زر منظور کیے گئے۔
سپلیمنٹری گرانٹس کی مد میں دفاعی ڈویژن کے 4 ارب 25 کروڑ روپے، دفاعی خدمات کے 33 ارب 96 کروڑ 81 لاکھ روپے، پاور ڈویژن کے 105 ارب 50 کروڑ روپے، پیٹرولیم ڈویژن کے ایک کروڑ 31 لاکھ روپے، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن کے 57 ارب 18 کروڑ 98 لاکھ روپے اور خزانہ ڈویژن کے 11 کروڑ 21 لاکھ روپے کا مطالبہ زر منظور کیا گیا۔

گرانٹس، سبسڈیز اور متفرق اخراجات کے 127 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ روپے، ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے 5 ارب روپے، اطلاعات و نشریات ڈویژن کے 1 ارب 47 کروڑ روپے جبکہ متفرق اخراجات کے لیے 13 ارب 82 کروڑ 95 لاکھ روپے، آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کے 2 ارب 8 کروڑ روپے، داخلہ و انسداد منشیات ڈویژن کے 96 کروڑ 3 لاکھ روپے جبکہ متفرق اخراجات کے لیے 19 ارب 72 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ زر منظور کیا گیا۔

سپلیمنٹری گرانٹس کی مد میں کمبائنڈ سول آرمڈ فورسز کے 1 ارب 38 کروڑ 62 لاکھ روپے، بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے 17 کروڑ 4 لاکھ روپے، قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن کے 2 کروڑ 74 لاکھ روپے، قومی صحت خدمات ڈویژن کے 29 ارب 66 کروڑ 53 لاکھ روپے اور غربت کے خاتمے و سماجی تحفظ ڈویژن کے 22 ارب 35 کروڑ 35 لاکھ روپے کا مطالبہ زر منظور کیا گیا۔وفاقی متفرق سرمایہ کاری اور قرضوں کے 2 ارب 37 کروڑ 72 لاکھ روپے، دفاعی ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 4 کروڑ روپے، پاور ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 6 ارب 35 کروڑ 80 لاکھ روپے، شعبہ وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے اخراجات کے لیے 4 ارب 18 کروڑ 22 لاکھ روپے اور قومی پیشہ ورانہ تکنیکی تربیتی کمیشن کے اخراجات کے لیے 1 ارب 57 کروڑ 80 لاکھ روپے کا مطالبہ زر منظور کیا گیا۔
سپلیمنٹری گرانٹس کی مد میں دیگر ترقیاتی اخراجات کے لیے 53 کروڑ 60 لاکھ روپے، ریونیو ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 10 ارب روپے، آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 3 ارب 70 کروڑ روپے، داخلہ و انسداد منشیات ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 34 کروڑ 47 لاکھ روپے، سول ورکس پر سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 7 ارب 88 کروڑ 38 لاکھ روپے اور ریلوے ڈویژن کے سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 6 ارب 61 کروڑ روپے کا مطالبہ زر منظور کر لیا گیا۔قومی اسمبلی نے دس سال قبل کیے گئے اضافی اخراجات کی بھی منظوری دے دی۔
مالی سال 2016/17 میں اضافی خرچ کیے گئے اخراجات 4ارب 12کروڑ 51لاکھ 95ہزار 260روپے کی بھی منظوری دی گئی۔پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے اضافی اخراجات کے لیے 4 ارب 12 کروڑ 51 لاکھ 96 ہزار روپے کا مطالبہ زر منظور کیا گیا۔ مالی سال 2016-17 کے اضافی اخراجات کی مد میں پاکستان پوسٹ آفس کے ایک مطالبہ زر کی منظوری دے دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں