اسلام آباد:(روزنامہ جرأت)وفاقی بجٹ 2026-27 آئی ایم ایف شرائط اور مشاورت سے تیار کیے جانے کا امکان ہے، اس سلسلے میں آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔وزارت خزانہ حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے جس میں نئے بجٹ اہداف، ٹیکس ریونیو اور مالی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔وزارت خزانہ نے بجٹ تجاویز اور سفارشات کی تیاری تیز کر دی، آئی ایم ایف کے ساتھ ایک ہفتے تک مذاکرات جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکومتی اخراجات اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے تجاویز زیر غور آئیں گی۔
ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے لیے ٹیکس اصلاحات پر بھی آئی ایم ایف سے مشاورت ہوگی، آئی ایم ایف وفد کے ساتھ معاشی اہداف اور ریونیو بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔نئے مالی سال کے بجٹ اہداف، ٹیکس محاصل، مالی اصلاحات، انرجی سیکٹر ریفارمز اور نجکاری میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال ٹیکس ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے۔ ایک ہفتہ جاری رہنے والے مذاکرات میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
وزارت توانائی سمیت دیگر اداروں اور محکموں سے اصلاحات پر مشاورت ہوگی۔ وفد کے ساتھ نئے بجٹ کے لیے ٹیکس اور دیگر معاشی اہداف طے کیے جائیں گے۔ترقیاتی اخراجات کے لیے تجاویز تیار کی جائیں گی۔ مالی نظم و ضبط بہتر بنانے، حکومتی اخراجات اور بجٹ میں ہم آہنگی کے اقدامات پر بات ہوگی۔وزارت خزانہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے اسلام آباد میں آئی ایم ایف مشن کی اہم ملاقات ہوئی جس میں ملکی معاشی صورتحال، آئندہ وفاقی بجٹ اور معاشی اصلاحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔آئی ایم ایف مشن کی قیادت مشن چیف آئیوا پیٹرووا نے کی، حکومت نے معیشت کو مستحکم اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے پر مشاورت جاری ہے۔




