(روزنامہ جرأت)چین کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ژیپُو اے آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایسا جدید اے آئی ماڈل تیار کر لیا ہے جو سائبر سیکیورٹی کی خامیوں کی نشاندہی کرنے میں امریکی کمپنی اینتھروپِک کے مائتھوس ماڈل کے برابر صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی نے اپنے ماڈل کو ایک ’سائبر نیوکلیئر ہتھیار‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ مغربی ممالک کی کمپنیوں اور سرکاری اداروں کے سسٹمز میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتا ہے۔رواں سال اپریل میں اینتھروپِل نے اپنے مائتھوس ماڈل کی رونمائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے دنیا کے تقریباً تمام بڑے آپریٹنگ سسٹمز اور ویب براؤزرز میں ایسی سیکیورٹی خامیاں دریافت کیں، جن میں بعض کئی دہائیوں سے پوشیدہ تھیں۔ممکنہ غلط استعمال کے خدشے کے پیش نظر اینتھروپِک نے ابتدا میں اس ماڈل تک محدود رسائی دی جبکہ بعد ازاں امریکی محکمہ تجارت کی ہدایت پر مائتھوس 5 کو عارضی طور پر تمام صارفین کے لیے بند کر دیا گیا۔بعد میں یہ ماڈل صرف تقریباً 100 قابلِ اعتماد اداروں، جن میں امریکی سرکاری ایجنسیاں، اہم انفراسٹرکچر آپریٹرز اور بڑی کمپنیاں شامل ہیں، کے لیے دوبارہ دستیاب کیا گیا۔




