کراچی:(روزنامہ جرأت)پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی میں ایک قتل کیس میں پھانسی دی گئی تھی جبکہ سپریم کورٹ مارچ 2024 میں قرار دے چکی ہے کہ ان کا ٹرائل منصفانہ نہیں تھا۔ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے، اعلیٰ تعلیم امریکا اور آکسفورڈ سے حاصل کی۔ 1967 میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، جو جلد ہی ملک کی بڑی سیاسی جماعت بن گئی۔وہ 1971 سے 1973 تک صدر اور بعد ازاں 1977 تک وزیر اعظم رہے۔ انہوں نے 1973 کا آئین دیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مضبوط کیا۔
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد انہیں ہٹا کر مقدمہ چلایا گیا اور بالآخر پھانسی دے دی گئی، تاہم ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں۔صدر آصف زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھٹو نے مشکل وقت میں ملک کو سنبھالا اور 1973 کا آئین ان کی بڑی کامیابیوں میں شامل ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے یوم شہادت پر انکی قومی اور سیاسی و آئینی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ذوالفقار علی بھٹو نے وزیراعظم کی حیثیت سے ملک کی ترقی و خوشحالی اور مضبوط دفاع کے تناظر میں خلوص نیت سے گراں قدر خدمات پیش کی۔ آئین پاکستان 1973 کی تیاری اور منظوری میں ذوالفقار علی بھٹو نے تعمیری کردار ادا کیا۔ 1973 کے آئین کو ملک میں پارلیمانی نظام کی مضبوطی اور جمہوریت کے فروغ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
وزیراعطم نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت میں عوامی طرز حکمرانی اور عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے قابل قدر کاوشیں کیں۔ وزیراعظم کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی عالمی افق پر پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بلندی درجات کے لئے دعا گو ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔




