اسلام آباد:(روزنامہ جرأت)دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر پاکستانی میڈیا نے مثالی کردار ادا کیا ہے۔ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو پوری دنیا نے سراہاہے۔ پاکستان کا ثالثی کا مقصد خطے میں امن کا قیام ہے، جس کے لیے پاکستان نے اوپن چیلنج قبول کیا اور متحارب ممالک میں مذاکرات کرائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امریکا و ایران تناؤ میں کمی کے لیے تعمیری اور مثبت کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں ثالثی کوششوں کے تناظر میں پاکستان نے فریقین سے رابطے کے چینلز کھلے رکھے۔ترجمان نے بتایا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز گزشتہ روز ایران کے دورے پر پہنچے جب کہ وزیر اعظم کے امیر قطر، جرمن چانسلر، اطالوی وزیر اعظم اور برطانوی وزیر اعظم سے ٹیلیفونک رابطے ہوئے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے جاپانی و کینیڈین وزیراعظم سے بھی رابطے ہوئے ہیں۔
طاہر اندرابی نے بریفنگ میں بتایا کہ اسلام آباد میں امن مذاکرات کا انعقاد کیا گیا، جس میں امریکا کی نمائندگی جے ڈی وینس اور ایران کی نمائندگی باقر قالیباف نے کی۔ وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے ان مذاکرات کے انعقاد میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز ایران میں ہیں جب کہ وزیراعظم 15 سے 18 اپریل تک سہ ملکی دورہ کررہے ہیں۔ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان نے مزید بتایا کہ اسلام آباد مذاکرات سے قبل متعدد ٹیلیفونک رابطوں کے ذریعے پاکستانی قیادت متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں رہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ پاکستان نے ایس سی او (ار اے ٹی ایس) میں بھرپور شرکت کی ہے۔ 4 ممالک کے سینئر حکام کے اجلاس کا اسلام آباد میں انعقاد کیا گیا۔ ان ممالک میں سعودی عرب، ترکیہ اود مصر شامل تھے۔
ترجمان نے کہا کہ ہم نے بھارتی فوج کے جرائم پیشہ افسر کرنل پروہت کی ترقی کی خبر دیکھی ہے۔ کرنل پروہت سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردی میں ملوث تھا۔ یہ ترقی بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔ پاکستان اس اندوہناک دہشت گردی میں ملوث تمام کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے مطالبے کی تجدید کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کی ابھی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو تاریخ اور وقت کا اعلان کیا جائے گا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان میڈیا نے امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے مثالی کردار ادا کیا ہے۔ کوئی قیاس آرائیوں پر مبنی خبر نہیں دی ۔ مذاکرات کی تاریخ کے بارے میں بھی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ ہم ایران اور سعودی عرب سے طویل رابطے و گفتگو میں ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات سے متعلق کسی بھی قسم کی افواہوں کی تردید کرتے ہیں۔ یو اے ای ہمارا دوست اور برادر ملک ہے۔ فنڈز کی واپسی کو تعلقات کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ امارات کی جانب سے مالی معاملات اس تنازع سے پہلے کے ہیں۔طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستانی کوسٹ گارڈز پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ اس معاملے پر مزید تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ فعال ہے۔ ہم جامع امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ ہمار ے دیگر ممالک سے رابطے بھی اسی حوالے سے ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات بے حد تعمیری تھے۔ ہم ان مذاکرات کو مثبت تناظر میں دیکھتے ہیں۔ 21 گھنٹے کا وقت تو صرف فریقین کے درمیان مکالمے اور مذاکرات کا وقت تھا۔ وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہمہ وقت موجود رہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ کون آئے گا، کتنا وفد ہو گا، کون ٹھہرے گا کون جائے گا اس کا تعین فریقین نے کرنا ہے۔ بطور ثالث مذاکرات کو خفیہ رکھنا ہمارے لیے ضروری تھا۔ ہماری پالیسی قومی و بین الاقوامی میڈیا کے لیے یکساں تھی۔ ہمارے پاس مذاکرات کی تفصیلات و اطلاعات مذاکراتی فریقین کی جانب سے امانت تھی۔




