hafiznaeemonlabourday

مفاد پرست کنسورشیم” بیوروکریسی اور حکومت میں موجود ہے جو وسائل پر قابض ہے، حافظ نعیم الرحمن

(روزنامہ جرأت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے منصورہ میں عالمی یومِ مزدور کے موقع پر مزدور کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور حکمران طبقے پر سخت تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ ہر سال عالمی یوم مزدور پر تقاریب اور بیانات تو ہوتے ہیں، مگر مزدوروں کو ان کا حق نہیں ملتا۔ ان کے مطابق پاکستان مزدوروں کی محنت کے باوجود اس رفتار سے ترقی نہیں کر سکا جس کا وہ مستحق تھا، کیونکہ محنت کا پھل ایک مخصوص طبقہ سمیٹ لیتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے الزام لگایا کہ ایک “مفاد پرست کنسورشیم” بیوروکریسی اور حکومت میں موجود ہے جو وسائل پر قابض ہے، جبکہ عام آدمی کو اس کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خیرات نہیں بلکہ ان کا حق دیا جانا چاہیے۔انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے کرپشن سے جوڑا اور کہا کہ اس میں بھی مڈل مین کمیشن لیتے ہیں، جبکہ غربت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے آصف علی زرداری سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں پر بھی تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ ان کی ملوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو کیا اجرت دی جاتی ہے۔ انہوں نے نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ اپنے کاروبار میں بھی مزدوروں کو حقوق نہیں دیتا۔
انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور لیوی ٹیکس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک لیٹر پر بھاری لیوی وصول کی جا رہی ہے جس کا پٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق حکومت اس مد میں سینکڑوں ارب روپے وصول کر رہی ہے جبکہ غریب اور مڈل کلاس خصوصاً موٹرسائیکل استعمال کرنے والے افراد متاثر ہو رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے جاگیرداروں اور بڑے سرمایہ داروں سے ٹیکس وصول نہ کرنے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ طاقتور طبقہ قرضے لے کر معاف کرا لیتا ہے جبکہ عام مزدور بنیادی حقوق سے محروم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹھیکیداری نظام کے باعث مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہے، لوگ 12،12 گھنٹے کام کرنے کے باوجود مناسب اجرت نہیں پاتے، اور کروڑوں مزدور رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق جب تک اس نظام کو چیلنج نہیں کیا جائے گا، مزدوروں کو انصاف نہیں ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں