lahore roof collapse

لاہور؛ گھر کی تین چھتیں ایک ساتھ گر گئیں، 2 خواتین اور بچے سمیت جاں بحق افراد کی تعداد 10ہوگئی

(روزنامہ جرأت)باغبانپورہ کے علاقے کوٹلی پیر عبدالرحمان، بھٹہ محمد دین کالونی میں بوسیدہ تین منزلہ مکان کی چھتیں گرنے سے ہولناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک بچے سمیت اب تک 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔
ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے دیگر افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دو افراد ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
متاثرہ خاندان کے قریبی عزیز نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 10 لاشیں اسپتال منتقل کی گئی ہیں، پانچ زخمیوں میں سے دو اسپتال داخل ہیں جبکہ باقی کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے، ایک بچے کی باڈی ابھی بھی ملبے تلے موجود ہے۔اہل علاقہ نے ریسکیو آپریشن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کے بعد اہل محلہ خود ہی ریسکیو آپریشن کر رہے تھے اور اپنی مدد آپ کے تحت 4 افراد کو زندہ ملبے سے نکالا۔
اہل محلہ کا کہنا تھا کہ ریسکیو اور پولیس نے آکر محلے داروں کو مزید ریسکیو سے روک دیا جبکہ ریسکیو 1122 کا اپنا آپریشن بہت سست تھا، اگر اہل محلہ کو ساتھ ملا کر آپریشن کیا جاتا تو آپریشن جلدی مکمل ہو جاتا، پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر آئے تو اس وقت بھی آپریشن میں تعطل آیا۔اہل محلہ کے مطابق جب چھت گری اس وقت گھر میں سالگرہ کی تقریب چل رہی تھی، تیسری منزل کی چھت کو مضبوط کرنے کے لئے چند روز قبل مٹی ڈالی گئی تھی تاہم مٹی نرم تھی اور بارش کا پانی جمع ہونے کے بعث وزن سے چھت گر گئی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے باغبانپورہ میں چھت گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کے بہترین علاج کی ہدایت کر دی۔
پولیس کے مطابق حادثہ رات تقریباً 10 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا جب مکان کی چھتیں یکے بعد دیگرے منہدم ہوئیں اور پوری عمارت زمین بوس ہوگئی۔حادثے کے وقت عمارت میں رہائش پذیر تین خاندانوں کے افراد اندر موجود تھے جن میں بزرگ، خواتین، مرد، بچے، بچیاں اور نوجوان شامل تھے۔ریسکیو حکام نے اب تک ملبے سے 13 افراد کو نکال لیا ہے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو خواتین، دو مرد اور ایک بچہ شامل ہیں جبکہ تین زخمیوں کو سروسز اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق خدشہ ہے کہ ملبے کے نیچے مزید 6 سے 7 افراد دبے ہو سکتے ہیں۔ ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ آخری متاثرہ شخص کو تلاش کرنے تک ریسکیو آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔حادثے کے بعد کمشنر لاہور نے رات گئے جائے وقوعہ اور سروسز اسپتال کا دورہ کیا، زخمیوں کی عیادت کی اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ملک وحید بھی موجود تھے، جنہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انتظامیہ کے مطابق عمارت گرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ ریسکیو اہلکار بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے اور ممکنہ متاثرین کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں