azarbaijan girl case

غیرملکی خاتون ’گینگ ریپ‘ کیس میں نئے انکشافات؛ دورہ پنجاب اسمبلی اور پارٹی کی ویڈیو بھی سامنے آگئی

(روزنامہ جرأت)لاہور میں غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی کیس میں نئے انکشافات سامنے آگئے جب کہ ڈیانا کی دوست مسکان نے اہم حقائق بتا دیے۔پولیس ذرائع نے کہا کہ غیر ملکی خاتون ڈیانا پارٹی گرل ہے اکثر پارٹیز میں شریک ہوتی، ڈیانا کی پارٹی کے بعد جھگڑے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آ گئی، ڈیانا ایک شخص کے ساتھ موجود ہے، دونوں نشے میں دھت کسی سے جھگڑا کرتے دکھائی دیتے۔پولیس ذرائع نے کہا کہ واقعے میں مسکان ، محسن اور علی زین گرفتار ہیں، پوچھ گچھ کے لئے 20 سے زائد دیگر افراد بھی حراست میں ہیں، مرکزی ملزم احمد تنویر کو تاحال پولیس گرفتار نہ کر سکی۔
اس کے علاوہ کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جب کہ گرفتار ملزمان نے اپنے بیانات ریکارڈ کروادیے۔
گرفتار مسکان نے اپنے بیان میں کہا کہ متاثرہ لڑکی ڈیانا سے ایک پارٹی میں ملاقات ہوئی، پارٹی میں ہی نمرہ اور میرے ساتھ موبائل نمبر شئیر کیا، غیر ملکی لڑکی نے پارٹیز میں دعوت پر شرکت کرنے کا کہا۔
ملزم محسن نے بیان دیا کہ ڈیانا کے ساتھ پہلی ملاقات ہی پچیس ستمبر کو ہوئی، مسکان اور نمرہ کے ذریعے ملاقات ایک نجی سوسائٹی میں تھی، نجی سوسائٹی سے نمرہ ،مسکان اور ڈیانا کے ساتھ ڈیفنس گئے۔ملزم علی نے بیان دیا کہ ڈیفنس میں واقع فلیٹ میں لڑکی کے ساتھ وقت گزارا، ڈیفنس پارٹی کرتے ہوئے ڈیانا آپے سے باہر ہوگئی۔ملزم محسن نے بیان دیا کہ اپنی گاڑی میں بیٹھا کر لڑکی کو لےکر نکلے، غازی روڈ پر پہنچ کر لڑکی نے گاڑی میں ہاتھا پائی شروع کردی، غازی روڈ پر ہی لڑکی زبردستی گاڑی سے اتر گئی۔ ملزم علی نے بیان دیا کہ صورتحال دیکھ کر گھبرا گئے اور گاڑی بھگا دی، لڑکی کا پرس اور موبائل فون گاڑی میں رہ گیا، راستے میں موبائل اور پرس گاڑی سے باہر پھینک دیا۔پولیس نے کہا کہ فلیٹ کی نشاندہی کرکے شواہد اکٹھےکر لیے۔آذربائیجانی خاتون ڈیانا کی پنجاب اسمبلی دورے کی ویڈیو سامنے آگئی، ویڈیو میں ڈیانا پنجاب اسمبلی کے ہال کے اندر موجود دکھائی دیتی ہے۔ویڈیو میں ڈیانا اسمبلی کے ایک دفتر میں ویڈیو بناتی نظر آ رہی ہے، ویڈیو میں پنجاب اسمبلی کی عمارت کے مختلف حصوں کے مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈیانا کی پنجاب اسمبلی آمد اور وہاں موجودگی سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں
ڈیانا کس مقصد کے لیے اسمبلی پہنچی اور کس کی اجازت یا رابطے کے ذریعے وہاں موجود تھی۔ تحقیقات جاری ہیں۔
مبینہ اجتماعی زیادتی کیس کی تحقیقات کے دوران ڈیانا کی پاکستان میں سرگرمیوں، مختلف افراد سے روابط اور نقل و حرکت کا ریکارڈ بھی زیرِ تفتیش ہے۔ پولیس اب تک دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کرچکی ہے، تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیموں کے چھاپے جاری ہیں۔، گرفتار ملزمان اس وقت ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہیں، غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی کا مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی میں درج ہے۔غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزمہ مسکان کو کینٹ کچہری میں سخت سیکیورٹی میں پیش کردیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے کیس کی سماعت کی۔
پولیس نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ مسکان کا یہ پہلا جسمانی ریمانڈ ہے اور ملزمہ کو جسمانی ریمانڈ پر جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔
ملزمہ مسکان نے عدالت کو بتایا کہ اس کا ڈیانا سے تعلق صرف دوستی کی حد تک ہے۔ ملزمہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قتل اور ڈکیتی کی دفعات کے علاوہ ملزمہ کا ریمانڈ نہیں لیا جا سکتا اور ملزمہ سے کچھ بھی برآمد نہیں کرنا۔
دوران سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمہ مسکان سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اپنا میڈیکل کروانا ہے؟ ملزمہ نے جواب دیا کہ نہیں، میں نے اپنا میڈیکل نہیں کروانا۔عدالت نے ملزمہ مسکان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کردیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں