important talks between government and pti

وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات شروع

(روزنامہ جرأت)وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس پر مشتمل اپوزیشن وفد اسپیکر چیمبر پہنچے۔ اپوزیشن وفد تقریباً 30 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر چیمبر پہنچا، وزیر داخلہ محسن نقوی، امیر مقام، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر، اعجاز جاکھرانی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری پر مشتمل حکومت کی مذاکراتی کمیٹی بھی اسپیکر آفس پہنچ گئی۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے پی ٹی آئی سے مذاکرات سے قبل غیر رسمی اجلاس کیا اور قانونی پہلوؤں پر غور کیا۔ کمیٹی نے پی ٹی آئی سے صرف سیاسی معاملات پر بات کرنے کی حکمت عملی مرتب کی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی، جس میں ملک کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال سمیت حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کے وفود کی ملاقات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ہمیں بات چیت کرنے میں جھجک محسوس ہوئی نہ کبھی انا آڑے آئی، پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ہمیشہ مسائل بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ کرے اپوزیشن بھی بات چیت کرکے اس موقع کو نہ گنوائے۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے مذاکرات شروع ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں کسی ایک خواہش کے تابع ہوکر ملک کے لیے مسائل پیدا نہ کریں۔ اللہ کرے اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ کی کال واپس لے، عام پاکستانیوں کے مسائل سامنے آنے چاہئیں نہ کہ سیاسی جماعتوں کے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آج اسپیکر چیمبر میں مذاکرات ہوں گے، مذاکرات کی دعوت وزیراعظم نے خود قائد حزب اختلاف کو دی ہے۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں، اپوزیشن آج آ رہی ہے تو اچھی امید کے ساتھ بیٹھیں گے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ بات چیت سے مسائل کا حل ملک اور سیاسی صورتحال کے لیے بہتر ہے، مذاکرات میں کئی موضوعات زیر بحث آئیں گے، ممکنہ حل حکومت کے پاس ہوا تو پیش کریں گے۔ اپوزیشن کو سیاسی رویہ اختیار کرنا پڑے گا، اسلام آباد پر یلغار اور چڑھائی سے اجتناب کرنا ہوگا جبکہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر کو قابو کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عدالتوں کے معاملات عدالتوں نے ہی فیصلہ کرنا ہیں، سیاسی معاملات ٹیبل پر بیٹھ کر ہوسکتے ہیں، بیٹھ کر جو بھی بات کرنا چاہیں وہ کریں۔ سیاسی اصولوں اور قانون کے مطابق جواب دیں گے۔ یہ طریقہ نہیں کہ وزیراعظم کو خط لکھ سکتے ہیں، مل نہیں سکتے، اس قسم کی سوچ سیاسی رواداری کا نقصان کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں