meeting between tehreek tahaffuz aain and jamat e islami

تحریکِ تحفظِ آئین کی اے پی سی کی دعوت قبول؛ گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کریں گے، حافظ نعیم

اسلام آباد: (روزنامہ جرأت)جماعت اسلامی نے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی آل پارٹیز کانفرنس کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدام کی مخالفت کریں گے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی سیاسی، امن و امان اور معاشی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرلی۔
ملاقات نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم کی رہائش گاہ پر ہوئی، جہاں حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ لیاقت بلوچ اور نصراللہ رندھاوا بھی موجود تھے جب کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد میں بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر اور مصطفیٰ نواز کھوکھر شامل تھے۔ پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ بھی ملاقات میں شریک ہونے کے لیے پہنچے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے، ایک وزیر بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کا نظام فیل ہوچکا ہے ۔ سسٹم کی ناکامی کا اثر غریب عوام پر ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کسی بھی کام سے قبل مشاورت کا حکم دیتا ہے، اسی لیے آج وہ امیر جماعت اسلامی کے پاس آئے ہیں۔ آل پاکستان پارٹیز کانفرنس کا ایجنڈا ملک کو بحران سے نکالنا ہے ، جس کے لیے جماعت اسلامی کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔راجہ ناصر عباس نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف ٹویٹ بھی کیا تھا۔ امید ہے تمام جماعتیں مل جائیں گی تو ملک کو بحرانوں سے نکالیں گی۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایجنڈا پاکستان میں امن و امان اور معاشی صورتحال پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔انہوں نے نے کہا کہ پاکستان کسی ایک پارٹی یا ادارے کا نہیں، ملک میں خون خرابے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرے گی اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی یا آئین کو معطل کرنے کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو بامعنی مذاکرات کرنے چاہیے تھے لیکن مذاکرات میں تاخیر کی گئی، اب مذاکرات بامعنی ہونے چاہییں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عمران خان سے ان کی پارٹی کے لوگوں کی ملاقات نہ ہونا بہت غلط بات ہے ۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے تحفظات دور ہونے چاہییں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان مطالبات پر کام کرے گی تو صورتحال بہتر ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت جتنی بھی خواتین گرفتار ہوئی ہیں، انہیں رہا کیا جانا چاہیے۔ تحریک انصاف کے گرفتار رہنماؤں کی ضمانتوں میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سیاسی عمل کی بحالی کے لیے جو بھی کوششیں ہوں گی، جماعت اسلامی آگے بڑھ کر کام کرے گی۔ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جو کام کررہی ہے، چاہتے ہیں کہ قوم اس میں ساتھ دے۔
بعد ازاں بیرسٹر گوہر علی خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے حافظ نعیم الرحمان کے پاس آئے ہیں، انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں لیکن انہیں کہیں سے بھی انصاف نہیں ملا۔ متحدہ اپوزیشن آج حکومتی وفد سے ملاقات کے لیے بغیر کسی پیشگی شرط کے جارہی ہے۔ اگر اخلاص کے ساتھ جائیں گے تو چیزیں ٹھیک ہوجائیں
گی .انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو گلے لگا کر ان کے مسائل حل کریں۔ ایک وزیرنے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے بغیر بھی ہم ایمرجنسی کا سوچ رہے ہیں۔ ہم پورے اخلاص سے حکومت سے ملیں گے۔ لانگ مارچ ہمارا اٹل ہے۔ آج حکومت کے رویے پر منحصر ہے کہ کیا کرتے ہیں۔ کے پی کے کو این ایف سی سے پیسے نہیں ملے، اس کے باوجود ہم نے وہاں پولیس کی کپیسٹی بڑھائی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا شکریہ کہ انہوں نے اے پی سی میں دعوت قبول کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد الیکشن، مہنگائی، عوام کا حق حکمرانی، یہ ہم سب کے مطالبات ہیں۔ ہم روز انصاف مانگ رہے ہیں ۔ ہمیں پارلیمان، عدلیہ، کہیں سے انصاف نہیں ملا ۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ اخلاص کے ساتھ مذاکرات کرنے جارہے ہیں ، ہماری مذاکرات سے پہلے کوئی شرط نہیں ۔ حکومت کی بات سنیں گے پھر اپنی بات کریں گے ۔ لانگ مارچ کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں ہے۔ آج بھی ایک وزیر نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے بغیر بھی گورنر راج لگ سکتا ہے۔ لانگ مارچ کے ہونے یا نہ ہونے کا انحصار حکومت کے رویے پر ہوگا ۔ دہشتگردی کے خلاف ہم نے پہلے بھی تعاون کیا ہے اب بھی کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں