cm kpk sohail afridi

وفاق اپنی ناکام پالیسی ترک کرکے ہمارے کہنے پر عمل کرے خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوجائے گا، وزیراعلیٰ

کوہاٹ:(روزنامہ جرأت) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مطالبات کا ڈرافٹ سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے، اگر ایک بھی نکتہ غیر آئینی ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کر دوں گا۔
کوہاٹ سے روانگی پر یونیورسٹی چوک میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوہاٹ کے غیرت مند لوگوں کا مشکور ہوں اور جوش و جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، یہ وہ جذبہ اور حب الوطنی ہے جو ہمیشہ ٹارگٹ کی جاتی ہے، میرے جوانوں آپ کا وزیر اعلیٰ کسی سے نہیں ڈرتا اور میرے پختونخوا کے جوان بھی کسی سے نہیں ڈرتے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ میں نے اپنے مطالبات کا ڈرافٹ سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے، اگر ایک بھی نکتہ غیر قانونی یا غیر آئینی ہو تو لانگ مارچ منسوخ کر دوں گا، میرے پاکستانیوں آپ سب کو معلوم ہے کہ ہم لانگ مارچ کرنے پر کیوں مجبور ہوئے؟ جب سے وزیر اعلیٰ بنا تب سے اب تک ہر دروازہ کھٹکھٹایا، جتنے جمہوری، آئینی و قانونی راستے تھے وہ سب اپنائے، بار بار کہتا رہا کہ آپ مجھے بتائیں کہ میرے پاس کون سا راستہ بچتا ہے؟
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ تمام آئینی و قانونی راستے اپنائے، جو جعلی وزیر اعظم ہے اسے فون پر کہا میری عمران خان سے ملاقات کرائیں اس نے کہا پوچھ کر بتاتا ہوں، پھر صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور ہوئی کہ میری ملاقات ہونی چاہیے، چیف جسٹس آف پاکستان کو کہا مگر ملاقات نہیں ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے میرا سلام لینا بھی گوارہ نہیں کیا ، سپریم کورٹ کے تین ججز حکم کرتے ہیں کہ عمران خان کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کرایا جائے اس پر عمل نہیں ہوتا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ جہاں سے انصاف کی توقع ہو مگر انصاف نہ ملے تو یہ آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم پُرامن احتجاج کریں، ہم نے پُرامن احتجاج کا آغاز جنوبی ریجن سے کر دیا ہے، ہم نہتے اور پر امن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے، عمران خان کا علاج، ملاقات غیر آئینی نہیں ہے، انصاف پر رہائی غیر آئینی نہیں ہے، ججز کیوں ڈرتے ہیں؟ ججز کیسز کیوں نہیں سن رہے؟ کیسز سنیں تو عمران خان ایک گھنٹے میں باہر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا، اگر جیل میں ہیں تو اس کی وجہ ہے کہ پاکستان اور دنیا کے طاقتور ترین کو ایبسلوٹلی ناٹ بولا تھا، یہ عمران خان کی مقبولیت سے ڈرتے ہیں، یہ اتنے بزدل ڈرپوک اور مکار ہیں کہ کبھی بھی ہمارے لیڈر کو باہر نہیں آنے دیں گے، اگر وہ عدالتیں جو آپ کے ٹیکس کے پیسے سے چلتی ہیں، اسمبلیاں، ادارے آپ کے ٹیکس کے پیسے سے چلتے ہیں تو راج بھی عوام کا چلنا ہوگا ، اگر عدالتیں انصاف نہیں کریں گی تو عوام سڑکوں پر انصاف کریں گے ، عوام نے فیصلہ کیا ہے کہ انہوں نے سڑکوں پر نکلنا ہے ، جب پورا صوبہ اور ملک نکلے گا تو کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا کہ مذاکرات اور بات چیت سے مسائل حل ہوں، سیاسی مذاکرات ہو رہے تھے اور وہاں یہ سوچا جا رہا تھا کہ اپنی کرسی بچانے کے لیے پشتون کے سر کا سودا کیا جائے، میں ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں، پختونوں کے سر کا سودا نہ پہلے قبول تھا، نہ اب ہے اور نہ کبھی ہوگا، عوام چاہتی ہے کہ مسائل صوبائی حکومت کی پالیسی سے حل ہوں، میں پالیسی دے رہا ہوں، 22 سال سے آپریشن پر آپریشن اور ڈرون پر ڈرون کارروائیاں ہورہی ہیں مگر دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، آپ کی ناکام پالیسی سے دہشت گردی ختم نہیں ہوسکی میں پالیسی دیتا ہوں، 100 دن میں امن قائم ہو سکتا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میرا صوبہ ہے، میرے لوگ ہیں، انہوں نے پاکستان کے لیے 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کہتی ہیں کہ ہمیں بھارت سے خطرہ نہیں، باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، یہ لوگ آپ کو انتشار کی طرف لے جانے کی کوشش کریں گے، مگر آپ کو پُرامن رہنا ہے، ہمارا پلان پشاور کا تھا مگر اب پہلے خیبر جائیں گے، اس کے بعد پشاور جائیں گے، ہم نے لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تو آپ نے دیکھا کہ پریس کانفرنسیں کہاں ہوئیں؟ جب ہم کہیں گے کہ اسلام آباد جائیں گے تو آپ کا باپ بھی ہمیں نہیں روک پائے گا۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ انہیں تکلیف 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تاریخ تبدیل کرنے پر ہوئی اور اب ٹیسٹ میچ پر ہو رہی ہے، 2018ء سے 2022ء تک یہاں امن تھا، عمران خان کسی کی غلامی نہیں کر رہے تھے، عمران خان کو باہر لانا ہے، وزیراعظم بنانا ہے، عمران خان وزیراعظم ہوں گے تو ترقی اور خوشحالی بھی آئے گی، اس حکومت کا دور ختم ہونے والا ہے اور ہمارا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ اب بتایا جا رہا ہے کہ عمران خان کی صحت ایک بار پھر خراب ہوئی ہے، عمران خان کی صحت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو جیل انتظامیہ، وزیراعظم اور دیگر متعلقہ ذمہ دار براہ راست ذمہ دار ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں