خواب دیکھنے پر پابندی تو نہیں

حالات کی ستم ظریفی کے باوجود یہی کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے کپتان صاحب کا مشکل وقت گزر چکا ہے، وہ بھرپور انداز میں چاروں طرف چوکے چھکے لگا رہے ہیں۔ اب اپوزیشن کا مشکل وقت شروع ہوا چاہتا ہے۔ عوام تو پہلے سے ہی مشکل حالات کا شکار تھے آئندہ بھی اچھے کی کوئی امید نہیں۔ فی الحال تو اپوزیشن بڑی آسانی سے کپتان کی انگلیوں پر بخوشی ناچ رہی ہے۔ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کی حالت تو یہ نظر آرہی ہے کہ جیسے بلی کو چھیچھڑوں کا خواب۔ یہ خواب دیکھنے پر تو کوئی پابندی نہیں لیکن جب شکاری گھاگ ہو، شکاریات کے تمام مسلمہ اصولوں پر عبور بھی رکھتا ہو تو وہ ایک تیر سے دو شکار اسی طرح کر سکتا ہے کہ مطلوبہ ہدف کو ایسا لالچ دے کہ جس کے پیچھے وہ دوڑتا چلا آئے اور جال میں پھنس جائے۔ آئندہ اقتدار کا لالچ وہ بوٹی ہے جس پر جھپٹنا اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں (ن) لیگ، پیپلز پارٹی اپنا حق سمجھتی ہیں۔ اسی بنیاد پر ایک دوسرے پر جھپٹ رہی ہیں جبکہ ماہرین شکاریات اطمینان سے بیٹھے ان دونوں جماعتوں کی لڑائی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری جن کے بارے میں مریم بی بی کی یہ رائے ہے کہ وہ سلیکٹرزکی سیکنڈ چوائس اور ٹیلنٹ ہنٹ اسکیم کے تحت سیاسی اکیڈمی میں زیر تربیت ہیں، اسی لئے پی ڈی ایم سے غائب ہو کر اب اُچھل اُچھل کر (ن) لیگ سے پنجہ آزمائی کررہے ہیں لیکن جب بات ان کی اپنی جماعت کی آتی ہے تو کبھی کبھی تحریک انصاف پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں، سانحہ ڈہرکی میں 65افراد کی شہادت کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ صورت حال کھل کر سامنے آگئی کہ بلاول بھٹو کیا چاہتے ہیں؟ اور کس انداز میں یہ کھیل آگے بڑھ رہا ہے کہ ایوان میں ہمارے رہنماؤں نے سانحہ ڈہرکی پر شہداء کے لواحقین سے ہمدردی کے دو لفظ کیا بولنا تھے، اپنے ہی گندے کپڑے دھونے بیٹھ گئے۔ بات بلاول بھٹو نے احسن اقبال کو ”کاغذی عہدیدار“ قرار دے کر شروع کی تو (ن) لیگ کے اراکین سیخ پا ہوکر ایوان سے چلے گئے۔ جب وزیر مواصلات مراد سعید نے بلاول بھٹو کو ”پرچی چیئرمین“ کہہ کر تاریں ہلائیں تو پیپلز پارٹی کے اراکین آگ بگولہ ہو کر میدان سے بھاگ گئے۔ قومی اسمبلی میں یہ اپنی نوعیت کی بالکل انوکھی واردات تھی کہ پہلے اپوزیشن سے اپوزیشن ٹکرائی پھر حکمران جماعت نے ایسی شُرلی چھوڑی کہ بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے اراکین کو ایوان سے اٹھ کر جانا پڑا۔ گویا کہ گھاگ شکاری اپنی طے شدہ حکمت عملی کے تحت کامیاب چال چل گیا۔ ایوان میں ریلوے حکام کی غفلت پر کوئی ٹھوس بحث ہوئی نہ کوئی حتمی فیصلہ کہ اس سانحہ کا اصل ذمہ دار کون ہے اور ماضی میں ایسے واقعات کے ذمے داروں کو کس نے کیا سزا دی؟ اُلٹا حکومت نے اپوزیشن کی غیرحاضری میں اپنی مطلوبہ قانون سازی بآسانی مکمل کرکے یہ ثابت کر دیا کہ کپتان ہی سب سے بڑا سیاسی کھلاڑی جبکہ اپوزیشن کے سب کھلاڑی اناڑی ہیں۔ اس لئے تو کپتان پُر امید ہے کہ وہ 2023کے انتخابات میں بھی کامیاب ہو جائے گا کہ بکھری اپوزیشن کی دو بڑی حریف سیاسی جماعتوں کی اقتدار کی خاطر باہمی کشمکش تحریک انصاف کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف، (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی سمیت تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کا پہلا ہدف یہی ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار نہ کی جائے۔ مرکزی رہنماؤں کو آئندہ عام انتخابات تک احتساب سے محفوظ اور جیلوں سے باہر رکھا جائے تاکہ وہ آزادانہ طور پر انتخابی عمل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس عرصے کے دوران مقتدرہ کا اعتماد بحال رکھنا، سندھ حکومت کو بچا کر کراچی میں تحریک انصاف کی گرتی ساکھ سے سیاسی فائدہ اٹھانا بھی اسی حکمت عملی کا حصہ نظر آتا ہے کہ جہاں تحریک انصاف کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں انہیں بہتر حکمت عملی کے نتیجے میں ممکنہ طور پر شکست سے دو چار کیا جا سکے۔ پیپلز پارٹی کی سوچ یہی نظر آتی ہے کہ سندھ سے واضح اکثریت ملنے کی صورت میں وہ وفاق میں برسر اقتدار آسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی، (ن) لیگ اختلافات کے پس منظر میں ایسے امکانات موجود ہیں کہ مستقبل قریب میں پنجاب میں ایسی حیران کن تبدیلیاں رونما ہوں جن کے منفی اثرات براہ راست (ن)لیگ پر مرتب ہو سکتے ہوں۔ یقیناً پنجاب (ن) لیگ کا قلعہ ہے اور یہی اس کا اصل ووٹ بینک بھی لیکن تحریک انصاف اس قلعے میں کسی بھی وقت بڑی دراڑ ڈالنے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں بزدار حکومت غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرے، اپنی بڑی اتحادی جماعت (ق) لیگ کو ہر قیمت پر مطمئن رکھے اور جہانگیر ترین گروپ سے معاملات کو طے کرے۔ بصورت دیگر بلاول بھٹو اگر مستقبل میں کپتان کا متبادل تصور کئے جا رہے ہیں تو پھر یہ سوچ بھی اہمیت اختیار کر جائے گی کہ نواز شریف، مریم نواز کا جارحانہ بیانیہ، اداروں سے براہِ راست ٹکراؤ، شہباز شریف کی مفاہمتی پالیسی ایک ایسا نکتہ ہے جس کی بنیاد پر آئندہ دو سال کے دوران (ن) لیگ کو تقسیم در تقسیم کرنے کی ایسی کوشش کی جائے گی جیسا کہ ماضی میں ایم کیو ایم کے ساتھ کیا گیا۔ تحریک انصاف، جہانگیر ترین اور پندرہ رکنی ناراض گروپ آئندہ عام انتخابات میں اپنی منفرد شناخت کے ساتھ متحرک ہو کر پیپلز پارٹی کو اتحادی کے طور پر سہارا دے سکتا ہے۔ بہر کیف پیپلز پارٹی کی حکمت عملی پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی تو نہیںہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں