قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر حماد اظہر کی غیر حاضری پر حکومتی ایجنڈا لینے سے انکار کر دیا

اسلام آباد(جرات نیوز)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے ارکان ملک میں جاری بدترین لوڈ شیڈنگ پر حکومت کے خلاف پھٹ پڑے، اراکین کمیٹی نے وزارت کے حکام کو آڑے ہاتھوں لے لیا ،کمیٹی اراکین نے وزیر تونائی کی عدم شرکت پر بھی شدید احتجاج۔ وزارت کے حکام نے اجلاس کو بتایا ملک میں آج بروزجمعہ سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم ہونا شروع ہو جائے گا،صرف صوبہ خیبر پختون خوا میں اسی فی صد لائن لاسز کا سامنا ہے جس کی وجہ سے 124 ارب پیسکو خسارے میں ہے،قائمہ کمیٹی نے حماد اظہر کی غیر خاضری پر حکومتی ایجنڈا لینے سے انکار کر دیا۔جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی چوہدری سالک حسین کی سر براہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ سے ارکان تلملا اٹھے ہر جگہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے حلقے کے عوام کو کیا جواب دیں ہمیں بتایا گیا تھا کہ بجلی سر پلس ہے رکن کمیٹی زید خان، تاج محمو شیر اکبر نے اپنے علاقوں میں بدترین لوڈ شیڈنگ کے بارے میں شدید احتجاج کیا جس پر پیسکو حکام نے بتایا کہ علاقہ کے لوگ بجلی کے بل دینے سے انکاری ہیں جس پر مجبورا ان علاقوں کی بجلی بند کر دی جاتی ہے کیونکہ لوگبل ادا نہیں کرتے اراکین کمیٹی کا کہنا تھا علاقہ کے لوگ بجلی کے بل دینا چاہتے ہیں اور میٹر بھی لگوانا چاہتے ہیں مگر پیسکو حکام کا رویہ ان لوگوں کے ساتھ درست نہیں ہوتا جس پر حکام نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 80 فی صد لائن لاسز ہیں۔سیکرٹری توانائی ڈویژ ن نے اجلاس کو بتایا کہ چوری کو روکنے اور کنڈے اتارنے لے لئے بل اسمبلی میں لا رہے ہیں اس کے علاوہ موجودہ حکومت بجلی کی مد میں خسارے کو کم کرنے اور نئے منصوبوں کے لئے ان ڈیسکوز کی نجکاری کر نے کے منصوبے پر عمل کرنے کے پیرا میٹر بنا رہی ہے 124 ارب پیسکو خسارے میں ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ 11 ارب کیسے وصول کیسے کریں گے یہ بہت بڑی رقم ہے۔سیکرٹری پاور نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کی بنیادی وجہ طلب اور رسد میں فرق ہے ان دنوں سکولز بند ہوتے تھے سکول کھلنے سے طلب بڑھی تربیلا ٹربائن کی مرمت سے بھی تین ہزار کا شارٹ فال آیا۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ٹرین حادثہ بھی بجلی کے شارٹ فال کی وجہ بنا۔ٹرینیں رکنے سے ساہیوال پاور پلانٹ کو کوئلے کی سپلائی نہ ہو سکی رکن کمیٹی شبیر قائم خانی نے کہا کہ پورا کراچی متاثر ہو رہا ہے بجلی کا بحران ہے پوری صنعت بند ہے عوام کا گرمی میں برا حال ہوگا ملک میں لوڈ شیڈنگ مہنگائی سے عوام کا براحال ہے رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ دوسرا اجلاس ہے وزیر توانائی تشریف نہیں لائے ممبران کو اس کمیٹی کا بائیکاٹ کرنا چاہیے،سی ای او پیسکو نے اجلاس میں بتایا کہ کے پی میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ لائن لاسز ہیں پیسکو کے تمام فیڈرز پر لائن لاسز اسی فیصد سے زائد ہیں س ایک سو چوبیس ارب کی ریکوری بقایا ہے بجلی تو استعمال کرتے ہیں بل نہیں دیتے بجلی پیسوں سے بنتی ہے مفت نہیں میٹر لگوانے کوئی نہیں آتا کنڈے سب ڈال دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں