متحارب افغان دھڑوں کی آزمائش

طالبان کے ساتھ ہونے والے امریکی معاہدے کے تحت غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلا آخری مراحل میں داخل ہو چکاہے۔قابض افواج نے اپنی سب سے بڑی اور آخری چھاﺅنی بگرام ائیر بیس کو بھی خالی کر دیا ہے،جو گرشتہ روز ایک تقریب میں باضابطہ طور پر افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا ۔محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تمام نیٹو ارکان اور امریکی سپاہی بگرام ائیر بیس چھوڑچکے ہیں۔امریکی فوج نے کابل کے شمال میں ساٹھ کلو میٹر دور واقع بگرام ائیر بیس سے بیس برس تک فضائی کارروائی اور رسد جاری رکھی ۔ امریکی فوج کا یہ انخلا افغانستان میں امریکی فوج کے چلے جانے کا ثبوت ہے ،افسوس ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ روز بگرام ائیر بیس خالی کرنے کے ساتھ ہی سرکاری فوج اور طالبان کے مابین جنگ میںتیزی آگئی، جس سے افغانستان میںامن عمل متاثر ہونا یقینی ہے ۔جنرل آسٹن ملر کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اعلیٰ کمانڈراب بھی افغان دارالحکومت کابل میں موجود ہیں جو انخلا کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ امریکی سکیورٹی کے مزید دو افسر وں کا کہنا تھا کہ چار جولائی تک زیادہ تر امریکی فوجی یہاں سے چلے جائیں گے ، صرف سفارت خانے کی حفاظت کے لئے کچھ فوجی افغانستان میں رہیں گے۔گزشتہ ماہ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی سے کہا تھا کہ افغان دھڑوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خودکرنا ہوگا کہ وہ اپنی سرزمین پر مستقل امن چاہتے ہیں یا باہم دست وگریباں رہنا چاہتے ہیں ۔
امریکی دورے کے موقع پر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اب ان کی ذمہ داری امریکی فوج کے انخلا کے بعد اس کے اثرات سے نمٹنا ہے۔سابق امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کے دور حکومت میں طالبان سے ہونے والے معاہدے میں رواںبرس یکم مئی تک غیر ملکی افواج کے انخلا کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم نئی امریکی انتظامیہ نے اس ڈیڈ لائن کو گیارہ ستمبر تک بڑھا دیاتھا۔افغانستان سے امریکی انخلا کے بدلے میں غیر ملکی افواج اور امریکی حمایت یافتہ حکومت کو نکالنے کے خواہش مند طالبان نے افغان سرزمین کو کسی بھی بین الاقوامی دہشت گردی میں استعمال ہونے سے روکنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ دوحہ معاہدے میں طے پایاتھا کہ طالبان اپنے افغان حریفوں سے مذاکرات کریں گے لیکن مذاکرات کے سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امریکہ کی افواج نے فوجی اڈہ خالی کردیا ہے،جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیںکہ امریکی فوجوں کا انخلا ایک مثبت قدم ہے ،غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ہی افغان دھڑے استحکام اور امن کے قریب ہو سکتے ہیں،یہ انخلا امریکی حکومت کے بھی مفاد میں ہے۔افغانستان میں نیٹو کے مشن میں شریک دیگر زیادہ تر ممالک کے فوجی پہلے ہی افغانستان سے نکل چکے ہیں۔ تین روز قبل جرمن فوج کا آخری دستہ بھی افغانستان سے روانہ ہوگیا۔
2001ءمیں جب امریکی سربراہی میں نیٹو کے رکن ممالک کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو اس وقت طاقت کا بھر پور اظہار کرنے کے لئے مسلسل بڑی بڑی تقریبات کا اہتمام کیا گیا تاہم اب بدترین شکست کے بعد نیٹو فورسز اپنے زخم چاٹتے ہوئے ذلت ورسوائی کے ساتھ خاموشی سے ہی بغیر کوئی تقریب منعقد کئے افغانستان سے روانہ ہو گئی ہیں۔ امریکہ کی طرف سے سکیورٹی تحفظات کو وجہ قرار دیتے ہوئے حتمی طو رپر یہ بتانے سے انکار کردیا گیا کہ اس کا آخری فوجی کب افغانستان سے روانہ ہوگا۔کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ائیر پورٹ کے تحفظ کی ذمہ داری کس کو سونپی جائے،اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ابھی تک یہ ذمہ داری نیٹو کے امدادی مشن کے پاس ہی ہے جو جلد اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔خبروں کے مطابق کابل ائیر پورٹ کے تحفظ کے لئے افغان حکومت اور ترکی کے درمیان ایک معاہدہ متوقع ہے، جس میں ممکنہ طور پر امریکہ بھی شامل ہوگا۔ امریکی سفارت خانے کے تحفظ کے لئے چھ ہزار سے زائد فوجی کابل میں موجود رہےں گے ۔ اس کے لئے افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان ایک دو طرفہ معاہدہ بھی متوقع ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان میں جھڑپوں میں تیزی آگئی ہے۔سرکاری فوج کے اہلکار طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں، ان کی جانب سے ہتھیار ڈالنے اور سرنڈر کی اطلاعات بدستور آ رہی ہےں۔ افغان حکام کو اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔قندھار کے سکیورٹی چیف اور سمنگان کے نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ نے اپنی فورسز کو ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ طالبان جہاں بھی ملیں ، انہیں قتل کردو، انہیں میرے پاس زندہ لانے کی ضرورت نہیں، ان کے سر کاٹ دو اور لاشوں کو گولیوں سے بھون دو۔اس کے بعد غزنی میں افغان فورسز نے طالبان کی لاشوں کو جلا دیا۔اس طرح کے واقعات کا مقصد طالبان کو مشتعل کر کے انتقامی کارروائی میں افغان فورسز کے گرفتار اہلکاروں کو ان کے ہاتھوں قتل کرانا ہے تاکہ جو اہلکار ہتھیار ڈال رہے ہیں ، ان کے پاس لڑنے کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہ رہے۔
افغانستان کی تازہ صُورت حال کے بارے میں دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کی خواہش کے باوجود امریکہ نے انخلا کو مو ¿خر نہیں کیا تاہم اس نے افغان حکومت کی مدد جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے،یہ مدد ہتھیاروںکی فراہمی کے علاوہ ڈرون ٹیکنالوجی حملوں کی صُورت میں ہو سکتی ہے اگر طالبان کی پیش قدمی جاری رہی تو امریکہ وعدہ کے مطابق ڈرون حملوں کا دائرہ بڑھا دے گا۔گزشتہ ہفتے بغلان ، پکتیا، فاریاب اور قندوز میں ڈرون حملوں میں کئی شہری شہید ہو چکے ہیں۔ اس وقت طالبان سمیت تمام افغان دھڑوں کا امتحان ہے کہ وہ کوئی ایسی حکمت علمی وضع کریںکہ افغان سرزمین سے غیر ملکی فوجوں کے چلے جانے کے بعد لڑائی کے بجائے امن قائم ہو سکے اور افغانستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے،جوگزشتہ بیالیس برسوں سے عالمی طاقتوں کی سازشوں کے باعث میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔اس بات میں کوئی دو آرا نہیں کہ افغانستان میں امن کی کنجی افغان دھڑوں کے ہی پاس ہے اگر وہ امن کی راہ اختیار کریں گے تو ان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ رہے گا۔یہ بات افغان دھڑوں کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ امریکہ ذلت آمیز شکست کے بعد گو افغانستان سے چلا گیا ہے مگر وہ اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کوئی بھی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے جس سے امن محض خواب بن جائے۔میں قیام امن کے راستے میں امریکہ کے بعد بڑی رکاوٹ بھارت ہے۔افغان انتظامیہ کو چاہیے کہ محض اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے امریکہ اور بھارت کی مکارانہ چالوں سے بچنے کی راہ اختیار کرے کہ جب تک بھارتی ایجنسیاں افغانستان میں موجود رہےں گی افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں