لاجواب ملک باکمال لوگ

ہم لبرل مسلمان ہیں، ماڈریٹ ہیں ، سوشلسٹ ہیں یا کمیونزم ہمارا نظام زندگی و طرز حکمرانی ہوگا یا ہم ریاست مدینہ میں صوم و صلوٰة کی پابند زندگی گزاریں گے ،بیجنگ ہمارا رول ماڈل ہوگا یا ترکش نظام حکومت ہمارے وارے آئے گا؟ کبھی ہم افغان طالبان کے حامی ہوتے ہیں تو کبھی ان سے کنارہ کشی کرلیتے ہیں۔ ہمارے کان پک چکے ہیں کہ جب خان اعظم ایران جاتے ہیں تو انقلاب ایران کے گُن گاتے ہیں۔ جب کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ہمیں مغربی جمہوریتوں کے لچک دار نظام پر لیکچر دیئے جاتے ہیں۔ 77 برس گزر گئے ، ہمیں جانا ماسکو تھا فلائٹ واشنگٹن اتر گئی۔ پھر کچھ پتہ نہیں چلا کہ آخر ہم نے کدھر آنا جانا ہے۔ جس نے جتنا دبایا اُسی کے زیر اثر ہوگئے۔ جہاں سے مال پانی ملا اسی کی طرف داری شروع کر دی۔ جیسے ہمارا ایمان کمزور ویسے ہی ہمارا نظام حکومت۔ کمال کے لوگ ہیں ہم، بہروپ ایسے بدلتے ہیں کہ جیسے گرگٹ رنگ بدلے۔ افغان جہاد ہو تو ہمارے حکمران ٹخنوں سے اوپر شلواریں باندھ لیتے ہیں ، جہاد ختم ہو تو یہی چہرے تھری پیس پینٹ کوٹ پہنے، ٹائی باندھے بابو بن جاتے ہیں۔ یہ کعبہ بھی جاتے ہیں تو صرف اپنی حکمرانی کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ ہم لاجواب ملک کے باکمال لوگ ہیں۔ ہمارے کپتان ہی کو دیکھ لیجئے کہ کس دلیری سے قومی اسمبلی میں اپنے تاریخی خطاب میں مشرف کے فیصلوں پر کھلے عام توپوں کے دہانے کھول دیئے ، کس طرح بڑھ چڑھ کر کہا گیا کہ ڈالروں کے عوض اپنے لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا اور اب ایسا نہیں ہوگا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن اس کا کیا کریں کہ کپتان کی پوری کی پوری ٹیم ہی مشرف کے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور اس کے اثرات ابھی تک سروں پر منڈلا رہے ہیں کپتان بھی کمال کرتے ہیں کہ قومی اتحاد و یک جہتی کا درس بھی دیتے ہیں لیکن پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت بھی نہیں کرتے۔ یہ کیسی فکر مندی اور حالات سے نمٹنے کی حکمت عملی ہے کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ افغانستان کا بحران سر پر کھڑا ہے اور ہماری سرحدوں کے آس پاس خطرات منڈلا رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں پوری سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحے پر کھڑی نظر آتی ہے لیکن ہمارا کپتان ان سب سے الگ تھلگ کھڑا ہے۔ اگر یہی سچ سمجھ لیا جائے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کپتان کی شرکت پر اعتراض تھا اور انہوں نے ہی سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اگر خان اعظم اِن کیمرہ اجلاس میں شریک ہوئے تو بائیکاٹ کریں گے اور خان اعظم نے اپوزیشن لیڈر کا یہ دباﺅ قبول کرکے اجلاس میں شرکت کرنے کی بجائے کسانوں، کاشتکاروں کے سیمینار میں شرکت کو ترجیح دی تو اس حقیقت کو بھی تسلیم کر لینا چاہئے کہ کپتان اپنی سوچ پر ڈٹا کھڑا ہے۔ وہ کسی بھی قیمت پر اپوزیشن کا سامنا کرنے یا اسے اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ یہ وہی اپوزیشن ہے جو قومی اسمبلی میں کپتان کی غیر حاضری پر پہلے سوال اٹھاتی پھر ایوان میں ہنگامہ آرائی کرتی ہے لیکن جب خان اعظم خطاب کرنے آتے ہیں تو بالکل خاموش ہو جاتی ہے اور تحمل و برداشت سے ان کا ”تاریخی خطاب“ بھی سنتی ہے، اگلے دن قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں باادب شرکت بھی کرتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ ہمارے کپتان بھی اپوزیشن سے براہ راست مکالمہ کرتے۔ ممکن ہے اس مکالمے سے یک طرفہ جمہوریت کا تاثر ختم ہو جاتا، قومی یک جہتی کی نئی راہیں کھل جاتیں لیکن یہ موقع بھی اَنا کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ شائد خان اعظم اپوزیشن رہنماﺅں کے بارے میں اپنی مخصوص سوچ رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مبینہ طورپر کرپشن، نیب زدہ لیڈر شپ اچھوت اور اس کے ساتھ بیٹھنا حرام ہے، اسی سوچ نے قومی یک جہتی کا سارا بوجھ عسکری قیادت کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔ فرض کریں کہ جو خان اعظم سوچ رہے ہیں وہ سچ ہے تو پھر انصاف، احتساب، قانون، عدلیہ کی تو بات ہی ختم ہوگئی۔ ایک مخصوص سوچ ہی قانون و انصاف ہے۔ کپتان اس لحاظ سے بڑا خوش قسمت ہے کہ اسے ہوم گراﺅنڈ کا ایڈونٹیج ہے تو ہوم کراﺅڈ بھی کسی حد تک اس کا مدد گار۔ اسے کبھی موسمی حالات کا سہارا مل جاتا ہے تو کبھی مخالف ٹیموں کا باہمی انتشار فائدہ پہنچاتا ہے۔ کپتان گرتے پڑتے ہر لمحے ہارتے میچ میںہمت دکھاتا، حالات کے مطابق نئی حکمت عملی اپناتا، کھلاڑیوںکا حوصلہ بڑھاتا نظر آتا ہے۔ وہ اس یقین کے ساتھ ابھی تک ڈٹا ہوا ہے کہ ایک نہ ایک دن تبدیلی لے ہی آئے گا۔ اسے یہ بھی اعتماد ہے کہ اگر ایمپائر اس کے حق میں نہیں تو کم از کم اس کے خلاف بھی کھڑا نہیں ہوگا۔ اسی لئے وہ نڈر، بے باک، تیز رفتار باﺅلنگ کراتا تو کبھی خود فرنٹ فٹ پر کھیلنے آجاتاہے۔ کپتان مسلسل اسی تگ و دو میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ پانچ سالہ میچ آخری گیند تک کھیلا جائے۔ وہ اپنی مخالف کالی، پیلی آندھی کے نام سے مشہور پی، ن ٹیموں کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر دونوں بڑی ٹیموں کے اوپننگ بلے بازوں کو بروقت احتساب کے تیز رفتار باﺅنسرز سے ڈرا دھمکا دیا جائے تو ان ٹیموں کا مڈل آرڈر مٹی کا ڈھیر ثابت ہوگا اور وہ بہ آسانی اپنی دوسری اننگز میں برتری کے ساتھ مزید پانچ سال حکمرانی کرسکتا ہے۔ کپتان کی یہ سوچ بھی کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے کہ مخالف ٹیمیں امپائر سے آس امید لگائے بیٹھی ہیں وہ اسی سہارے کی تلاش میں کبھی خاموش تو کبھی کھلے عام احتجاج کرتی ہیں۔ اپوزیشن کی یہ محتاط حکمت عملی ہی کپتان کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے یہ حکمت عملی کہاں تک کامیاب ہوتی ہے یہ تو آنے والے عام انتخابات کے نتائج ہی بتائیں گے کہ اگر2018 ءکی طرح اس بار بھی عمران مخالف ٹیموں کو احتساب کورٹس یا نیب کے زیر اثر دبانے کی کوشش کی گئی اور شفاف انتخابات کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوئی تو نتائج کپتان کی سوچ کے برعکس بھی ہوسکتے ہیں۔ لاجواب ملک کے باکمال لوگ بدلتے حالات دیکھ کر نیا روپ دھارنا اچھی طرح جانتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں