عوام گھبرائیں نہیں تو اور کیا کریں

حکومت نے عید الاضحیٰ پر ایک اور مہنگائی بم گرادیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5.40 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ۔ایل پی جی اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔وفاقی وزیروں ، مشیروں اور ترجمانوں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں نرخوں میں رد وبدل کے باعث اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 11.40 روپے اضافہ کی تجویز دی تھی فیصلے کے نتیجہ میں اضافی بوجھ حکومت برداشت کرے گی۔وفاقی وزراءکا کہنا ہے کہ حالیہ اضافہ کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کے نرخ خطے میں دیگر ممالک کی نسبت کم ہیں۔سیاسی اور سماجی حلقوں نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں حالیہ اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ظالمانہ اقدام قرار دیا ہے۔
ملک میں تبدیلی کا خواب ایک عذاب کی صورت میں سامنے آ رہا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کا قوم کو ”گھبرانا نہیں“کا مشورہ بھی اپنا اثر کھو بیٹھا ہے کہ گزشتہ روز پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کے باعث عوام بلبلا اٹھے ہیں ، خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرتے لوگ واویلا کر رہے ہیں کہ جائیں تو جائیں کہاں ؟مہنگائی میں مسلسل اضافہ اور آمدنی میں بتدریج کمی ہونے سے عام آدمی کے لئے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔روزانہ اجرت پر کام کر کے گزر بسر کرنے والے طبقے کے حالات کا احاطہ الفاظ میں ممکن نہیں ،بجلی کے نرخوں میں بار بار اضافہ کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بلند ترین سطح پر پہنچتے ہی نہ صرف اشیائے ضرورت کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں بلکہ ذخیرہ اندوز بھی من مانی پر اتر آتے ہیں ۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ حکومت تمام تر دعوﺅں کے باوجود آج تک آٹا، چینی اورگھی سمیت دیگر اشیائے ضرورت کی ذخیرہ اندوزی کرنے اور ان پر من مانے نرخ وصول کرنے والوں کے خلاف کوئی ایسی کارروائی نہیں کر سکی کہ وہ منفی حربوں سے باز آ جائیں۔اب عوام کا وزیرا عظم عمران خان سے ایک ہی سوال ہے کہ اب بھی نہ گھبرائیں تو کیا کریں؟کس کو مسیحا مانیں کہ وہ ہمارے درد کا درماں کرے، ہمارے مسائل حل کر ے تاکہ ہم بھی خوش حال زندگی بسر کر سکیں۔
عوام پرامید تھے کہ نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے بعد حالات میں بہتری آئے گی، حکومتی وعدوں کے مطابق اشیائے ضرورت اگر مزید سستی نہیں بھی ہوں گی تو وفاقی وزیر خزانہ کے دعووں کے مطابق کم ازکم قیمتوں میں اضافہ بھی نہیں ہوگا لیکن اس حوالے سے معاشی ماہرین کے تجزیے ،تبصرے اور خدشات درست ثابت ہوئے ہیں اور مہنگائی کا جن مزید بے قابو ہو گیاہے۔اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف ، امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور اے این پی کے قائد اسفند یار ولی سمیت متعدد سیاسی اور سماجی رہنماﺅں نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں حالیہ اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے ا سے عوام پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے، جو پہلے ہی معاشی مسائل کا شکار ہونے کے باعث فاقوں اور خود کشیوں پر مجبور نظر آتے ہیں۔حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے ، ملک میں بڑھتی لاقانونیت کے باعث نہ صرف امن وامان کی حالت نا گفتہ بہ ہے بلکہ ایسے تمام مافیاﺅں کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے، جوحکومت کے نزدیک مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔ملک کی تاجر برادری اور عوامی حلقوں نے پٹرلیم مصنوعات کے نرخوں میں حالیہ اضافہ پر وزیروں ، مشیروں اور ترجمانوں کے بے سروپا دلائل کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی میں کمی لانے کے لئے مخلصانہ اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ ایسے تمام مافیاﺅں کو عبرت کا نشان بنایا جائے جو مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔ حکمرانوں کی یہ دلیل کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان میں پٹرول کے نرخ خطے میں دیگر ممالک کی نسبت کم ہیں ، زمینی حقائق کے برعکس ہے ،اس لئے کہ دیگر ممالک میں اگر پٹرول کے نرخ پاکستان کی نسبت زیادہ ہیں تو وہاں قانون کی بالا دستی ہونے کے باعث لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم نہیں ہوتا اور یہ کہ مہنگائی میں اضافہ کے تناسب سے ہر سال تنخواہوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس سے شہریوں کی آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رہتا ہے۔مہنگائی کا جن بے قابو دیکھ کر بھی وزراءکا عوام سے اظہار ہمدردی نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمرانوں کے نزدیک عوام کی اہمیت حشرات الارض سے زیادہ نہیں ۔یہ ممکن ہی نہیں کہ ارباب اختیار اگر پاکستان کے عوام سے ہمدردی رکھتے ہوں تو ان کے مسائل حل کرنے کے لئے مخلصانہ کوششیں نہ کریں۔
مہنگائی پر قابو پانا مفاد عامہ کے تحفظ کے مترادف ہے ،حکمرانوں کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے پارٹی منشور کی روشنی میں عوام کو درپیش مہنگائی ،بے روز گاری اور ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت ایسے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے ۔حکمران عوام کو ریلیف دینے کے لئے اپنی شہ خرچیوں اور غیر پیدا واری اخراجات میں کمی لائیں ،سادگی اور کفایت شعاری کا راستہ اختیار کریں تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم ہو سکے،وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کی فوج ظفر موج میں بھی کمی لائیں تاکہ سرکاری اخراجات کم ہوں اور بچنے والا پیسہ عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جائے تاکہ عوام کو بھی احساس ہو کہ حکمران دکھ درد میں ان کے ساتھ ہیں۔اس بات میں کوئی دو آرا نہیں کہ مہنگائی اور بے روز گاری ایسے مسائل حل کرنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی اور مخلصانہ کوششوں کی اشدضرورت ہے،افسوس ہمارے ہاں ان دونوں چیزوں کا فقدان ہے ،لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ قانون کا اطلاق صرف غریب پر ہوتا ہے۔ قانون بالا دست ہوتا تو ملک میں مہنگائی کا جن یقینا بے قابو نہ ہوتا۔ضرورت اس امر کی ہے حکمران عوام سے کوئی ایسا وعدہ نہ کریں جو وہ پورا نہیں کر سکتے ۔مفادعامہ کے منصوبہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر بنائے جائیں اور ان پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مہنگائی اور بے روز گاری ایسے مسائل حل نہ ہو سکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں