پاک افغان کا اعلیٰ سطح پر رابطہ،اسلام آباد واقعے پر ذاتی دلچسپی لینے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا

اسلام آباد : پاکستان افغانستان کے وزرائے خارجہ نے دوطرفہ دلچسپی کے امور پر رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان ہم منصب محمد حنیف آتمر سے ٹیلفونک رابطہ کیا،جس میں دونوں وزرائے خارجہ دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ٹیلیفونک گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے افغان ہم منصب کو 16 جولائی کے واقعے پر اقدامات سے آگاہ کیا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزرات خارجہ مروجہ سفارتی روایات سے بخوبی آگاہ ہے۔افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا اور تشدد سے متعلق واقعے میں ملزمان کی گرفتاری، انصاف کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹیلی فونک گفتگو میں افغان ہم منصب کو بتایا کہ افغان سفتارخانے اور قونصلیٹ کی سیکیورٹی میں مزید اضافہ کر دیا۔
توقع ہے افغان حکومت سفیر ، سینئر سفارتکاروں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کرے گی۔افغان وزیر خارجہ نے اسلام باد واقعے کی تحقیقات میں ذاتی دلچسپی لینے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور افغان سفارتخانے ، قونصلیٹ کی سیکیورٹی بڑھانے کی کاوشوں کو سراہا۔حنیف آتمر نے کہا کہ افغانستان،پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔افغانستان، پاکستان کے ساتھ تعلقات میں استحکام کے لیے پرعظم ہے،۔
ٹیلی فونک رابطے میں دونوں وزراء خارجہ نے دو طرفہ دلچسپی امور پر روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے اسلام آباد سے اپنے تمام سفارت کاروں کو ملک واپس بلا لیا ہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کا کیس 72 گھنٹے میں حل ہوجائے گا اور جلد تمام تفصیلات سامنے آجائیں گی کہ اس معاملے میں کون ملوث ہیں ، ابتدائی طور پر 3 ڈرائیورز سے تفتیش مکمل کرلی گئی ، واقعے کی ایف آئی آربھی درج ہوچکی ہے ، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 16 جولائی کو اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ کیس 72 گھنٹے میں حل ہو جائے گا ، اب تک کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلی اور ٹیکسی سے کھڈا مارکیٹ پہنچی ، جیسے جیسے تحقیقات کر رہے ہیں کڑیاں مل رہی ہیں ، افغان سفیر کی بیٹی کے کھڈا مارکیٹ سے راولپنڈی جانے کی تحقیقات کر رہے ہیں ، اغوا کاروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں