دنیا کے جدید ترین واش بیسن سے اسمارٹ فون بھی دھویا جاسکتا ہے!

ٹوکیو: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایسا جدید واش بیسن دکھایا گیا ہے جس میں ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فون بھی دھویا جاسکتا ہے۔یہ مختصر سی ویڈیو سب سے پہلے ٹک ٹاک اکاؤنٹ ’’کنسائی پروچاری‘‘ (@kensei_prochari_) پر پوسٹ کی گئی تھی جس کے بعد سے اب تک یہ کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی جاچکی ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر یہ اچھوتا واش بیسن کس ملک کی کونسی کمپنی نے ایجاد کیا ہے۔البتہ ویتنام کے ایک غیرمعروف یوٹیوب چینل ’’نام نام‘‘ نے اس ویڈیو کو (ویتنامی زبان میں) ’’جاپانی ٹیکنالوجی‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ واش بیسن میں ہاتھ دھونے والی جگہ کے بالکل برابر میں ایک پتلا لیکن چوڑا سوراخ بنا ہوا ہے۔
ہاتھ دھونے والے نامعلوم شخص کے اسمارٹ فون اس سوراخ پر رکھتے ہی فون آہستہ آہستہ اندر اتر کر غائب ہوجاتا ہے جس کے فوراً بعد سوراخ میں نیلی روشنی دکھائی دینے لگتی ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے سوراخ کے اندر جانے کے بعد، واش بیسن کے ساتھ منسلک نظام، الٹراوائیلٹ شعاعیں استعمال کرتے ہوئے اسے جراثیم اور وائرسوں سے پاک کرتا ہے۔
تقریباً تیس سیکنڈ تک وہ شخص ہاتھ دھوتا ہے اور اس دوران اسمارٹ فون اسی سوراخ کے اندر غائب رہتا ہے جبکہ نیلی روشنیاں بھی جلتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہیں۔ہاتھ دھونے اور پونچھنے کے بعد وہ شخص اپنا ہاتھ اس سوراخ پر لاتا ہے تو اسمارٹ فون بھی خود بخود باہر نکل آتا ہے۔
پس منظر میں چہل پہل سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو غالباً کسی عوامی جگہ پر، یا کسی نمائش میں بنائی گئی ہے۔
قوی امکان ہے کہ ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فون کی دھلائی کرنے والا یہ جدید واش بیسن، ٹیکنالوجی سے متعلق کسی حالیہ نمائش میں رکھا گیا تھا اور ٹک ٹاکر کو اس کا عملی مظاہرہ کرکے دکھایا گیا تھا۔
خیر! کچھ بھی ہو، لیکن یہ ایجاد مہنگی ہونے کے علاوہ دلچسپ بھی ہے کیونکہ بہت سے لوگ چوبیس گھنٹے اسمارٹ فون استعمال کرنے کے باوجود اس کی صفائی کا خیال نہیں رکھتے۔
اسمارٹ فون کی لت میں مبتلا کچھ ایسے بھی ہیں جو بیت الخلاء تک میں فون اپنے ساتھ ہی لے جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ اپنے اسمارٹ فون کو گندگی اور غلاظت کا ڈھیر بنا دیتے ہیں۔
جدید واش بیسن اس مسئلے کا اچھا حل ثابت ہوسکتا ہے، بشرطیکہ صارفین اور ادارے اس پر اضافی رقم خرچ کرنے کےلیے تیار بھی ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں