چوک یتیم خانہ

خان اعظم کے تین سالہ دور حکومت کی کامیابیوں، ناکامیوں پر کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے آپ کے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے ایک حکایت پیش خدمت ہے کہ ایک مریدپیر صاحب کی ٹانگیں دبانے کے ساتھ ساتھ اپنا مسئلہ بھی بیان کئے جارہا تھا۔ اسی دوران پیر صاحب کی آنکھ لگ گئی لیکن مرید بدستور پیر صاحب کی ٹانگیں دباتا رہا اوراپنی پریشانی بھی پیر صاحب کے گوش گزار کرتا رہا۔ اتنے میں پیر صاحب کی آنکھ بھی کھل گئی اور وہ بولے!ہاں تُو کیا کہہ رہا تھا؟ میں سن نہیں سکا، آنکھ جو لگ گئی تھی۔ اب دوبارہ بتا اپنا مسئلہ۔ یہ سنتے ہی مرید کو ایک زور دار دھچکا لگا، پیر صاحب کیا آپ نے واقعی نہیں سنا؟ ہاں میری آنکھ جو لگ گئی تھی، اب بول آنکھ جو کھل گئی ہے۔ مرید بولا ! پیر صاحب آنکھ آپ کی نہیں میری کھل گئی ہے ، جب آپ سوئے ہوئے سن نہیں سکتے تو مرنے کے بعد کیا سنیں گے؟ پیر کامل ہو تو اپنے مریدوں کے دل کی آواز بھی محسوس کرسکتا ہے۔ جب ہمارے پیر ومرشد خان اعظم بھرے مجمعے میں یہ کہیں کہ ”عثمان بزدار! آپ اتنا کام کرتے ہیں لیکن کسی کو پتہ نہیں چلتا، پنجاب میں بزدار نے جتنا کام کیا ہے آج تک کوئی نہیں کرسکا“ تو کوئی خاص حیرت نہیں ہوتی کہ خوابوں کی دنیا ہی ایسی ہوتی ہے۔ انسان مفت میں گلفام بنا سر سبز وشاداب وادیوں میں اُڑتا چلا جاتا ہے لیکن جب آنکھ کھلتی ہے تو وہی ویرانہ، جنگل بیاباں نظر آتا ہے۔ اب پیرو مرشد کو کون سمجھائے کہ سب اچھا نہیں ہے کہ زر مبادلہ کے ذخائر 27 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ تو گئے ہیں لیکن یہ من و سلویٰ ابھی تک آسمان سے نیچے نہیں اُترا۔ ڈالر روپے پر بوجھ بن کر گر رہا ہے ۔ مہنگائی کی شرح تمام حدیں پار کر چکی ہے۔ حساب کتاب کے ماہرین تو یہی کہتے ہیں جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے توکاروبار متاثر ہوتا ہے۔ پٹرول، بجلی، گیس مہنگی ہوتی ہے تو گھر گھر تباہی آتی ہے۔ ہر شہر گلی محلے میں پناہ گاہیں بن گئیں، لنگر خانے کھل گئے، کامیاب نوجوان، احساس پروگرام آگئے،
یکساں نصاب تعلیم نافذ ہوگیا، گھر گھر ہیلتھ کارڈ تقسیم کئے جارہے ہیں، مان لیا یہ آپ کی بہترین کامیابیاں ہیں یہ سب کارنامے توماضی کی حکومتوں نے بھی رنگ برنگے ناموں سے انجام دیئے تھے لیکن عوام کی زندگی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا، اس کا کیا کریں کہ عالمی اداروں سے مانگے تانگے کے ڈالروں سے جو قومی خزانہ بھرا جارہا ہے اس بوجھ کو کون اٹھائے گا ؟ جب ہر طرف خوش حالی لہلہارہی ہے تو پھر تین سال میں آٹے کا تھیلا700 سے 1300 روپے، چینی 55 سے 110، گھی140 سے320 ، پٹرول65 سے120 ، سونا 55 ہزار سے1لاکھ 20 ہزار تولہ، ڈالر 90 سے 170 ، موٹرویز پرٹول ٹیکس 100 سے 350 ، ڈاک خانے کا پارسل 20 سے 80 ، بجلی 8 سے 20 روپے یونٹ، گیس 110 فی ایم ایم پی ٹی سے 450 ، ادویات کی قیمتوں میں پانچ سو فیصد سے بھی زائد اضافہ کیوں ہوا؟ سڑکوں کی حالت زار بھی ملاحظہ فرمالیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے مختلف شہروں میں آنا جانا ہوا ، کچھ حالت زار رﺅف کلاسرا صاحب نے اپنے کالم میں بیان کردی باقی ان کے مداحوں نے، جھنگ کے ترقیاتی منصوبوں کا 14 ارب روپیہ ڈی سی آفس کے اکاﺅنٹ میں گل سڑ رہا ہے، کوئی سڑک بنائی نہ کوئی تعمیراتی کام ہوا۔ ڈیرہ غازی خان راجن پور کے باسی انڈس ہائی وے کا سیاپا کر رہے ہیں۔ کلر سیداںتا کشمیر روڈ کی مرمت پر کروڑوں روپیہ خرچ ہونے کے بورڈ تو آویزاں ہیں لیکن حالت ویسی کی ویسی ہی ہے۔ لاہور سے جھنگ، جھنگ سے بھکر، چنیوٹ سے فیصل آباد، پنڈی بھٹیاں سے چنیوٹ، سرگودھا روڈ موت کے کنوئیں بن چکی ہیں ۔ آپ کسی بھی شہر کا سفر کرلیں، موٹروے سے نیچے اترتے ہی سب سے نمایاں بورڈ ”پناہ گاہ“،”لنگر خانے“ کا نظر آئے گا۔ اسلام آباد سے لاہور موٹروے سے اتریں سب سے پہلا کتبہ ”چوک یتیم خانہ“ لکھا نظر آتا ہے اس سے آگے کیا لکھوں آپ ہماری حالت زار سمجھ ہی گئے ہوں گے، پیرومرشد عثمان بزدار کے پنجاب کو دیکھنا ہے تو ہیلی کاپٹر سے نیچے اتریں، آپ گزشتہ چند ہفتوں میں دو بار سگیاں پل کے علاقے میں جنگل اُگانے گئے۔ ذرا وقت نکال کر اس مرکزی داخلی سڑک پر سفر کرلیتے تو اندازہ ہو جاتا کہ لاہور آنے جانے والوں کا یہ کھنڈرنما سڑک کس طرح استقبال کرتی ہے۔ اب تو یاد ہی نہیں رہتا کہ پنجاب کے کتنے چیف سیکرٹری، آئی جی صاحبان تبدیل ہوگئے لیکن جرائم میں اضافے کی شرح میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ امن و امان کی صورت حال کی ایک جھلک دیکھ لیں، عثمان بزدار کی موجودگی میں صوبائی وزیر اسد کھوکھر کے بھائی مبشر کھوکھر قتل کر دیئے گئے۔ سابق ایم این اے جمشید دستی کے بھائی کو پنچائت کے دوران موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ صرف ایک دن 8 اگست کو بورے والا، دیپالپور ، فیصل آباد، منڈی بہاﺅالدین، پاک پتن ، پتوکی، لالہ موسیٰ میں ایک بچے، دو خواتین کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ مجموعی طور پر اس دن غیرت کے نام ، گھریلو جھگڑوں، دیرینہ دشمنی پر 5 خواتین،6 مرد قتل کر دیئے گئے۔ لاہور میں مسافر اور راہ چلتی خواتین کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں۔جشن آزادی کے دن مینار پاکستان کے سائے تلے ٹک ٹاکر عائشہ اکرم اور رکشے میں سوار بچی کی سرعام عزتیں پامال کی گئیں۔ مظفر گڑھ میں خاتون کو برہنہ کیا گیا، سانگلہ ہل میں دو بچوں کی ماں سے چودہ دن تک اجتماعی جنسی زیادتی ہوئی۔ ہربنس پورہ لاہور میں ذہنی معذور لڑکی، غالب مارکیٹ میں خاتون ، کوٹ لکھپت میں 12 سالہ بچی اور فیصل آباد میں 15 سالہ لڑکی سے منگیتر نے دوستوں سے مل کر اجتماعی زیادتی کی۔ یہ رپورٹ ہونے والے چند واقعات ہیں۔تین سال میں ایسے لگتا ہے کہ جیسے ڈالروں کی تو برسات ہو رہی ہو مگرہم چوک یتیم خانہ میں کھڑے ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں