مردِ قلندر سید علی گیلانی ؒ

اگر کسی پاکستانی سیاست دان نے یہ سمجھنا ہو کہ نہ جھکنے والا، نہ بکنے والا ، مرد قلندر کون ہوتا ہے تو مجاہد اعظم کشمیر سید علی گیلانیؒ کی زندگی کے ایک ایک لمحے کو اپنی آنکھوں میں سما لے جو آخری سانس تک ہندو سامراج کے خلاف ڈٹا رہا ، آزادی کے نعرے بلند کرتا ، ہمارے دلوں کو آزادی کشمیر کے نعروں سے گرماتا رہا ۔ ایک سچا عاشق رسول تحریک آزادی کشمیر کا سرخیل ، سچا پاکستانی، مرد حُر، جنت سے آیا، جنت میں ہی واپس چلا گیا۔ ایک ہم ہیں اور ایک وہ ہستی تھی جس نے بھارت کے ظلم و جبر، غلامی کی زنجیریں پہن کر بھی اپنی آخری سانسوں تک پاکستان سے اپنی محبت و عشق میں یہ نعرہ مستانہ بلند کئے رکھا کہ ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے۔ آخری سانسوں میں درودپاک کے ساتھ پاکستان سے محبت اس طرح نبھائی کہ زبان پر لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ،پاک سر زمین، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت اللعالمین، رحمت اللعالمین، پاک سر زمین، پاک سر زمین کا ورد جاری تھا۔ مردِ قلندر کہتا تھا کہ گیلانی کو آپ قتل کریں اگر آپ کو یقین ہے کہ گیلانی کے قتل سے یہاں (ہندوستان) کے خلاف تحریک آزادی نہیں چلے گی تو تم گیلانی کو قتل کرو، پھر تجربہ کرو کہ گیلانی کے قتل ہوجانے کے بعد ایک ایک نوجوان گیلانی بنے گا ۔ انشاءاللہ۔ اور وہ نوجوان ہندوستان کے خلاف اس وقت تک لڑے گا جب تک اس مقدس سر زمین (مقبوضہ کشمیر) کوایک بھی بھارتی فوجی سے پاک نہیں کرلیا جاتا۔ یہ تاریخی الفاظ سید علی گیلانیؒ نے بھارتی فورسز کے سامنے گرفتاری دیتے ہوئے کہے اور اللہ کے حضور پیش ہونے تک اس پر قائم رہے۔ ایک سید گیلانیؒ تھے اور ایک ہم ہیں کہ جنہوں نے انہیں ”پاگل بڈھا“ 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد مجاہد اعظم کشمیر کے شدید رد عمل پر انہیں ہندوتوا کا رکن تک قرار دیا۔ وہ مردِ قلندر تھا جس کے سبز ہلالی پرچم میں لپٹے جسد خاکی سے بھی مودی سرکار خوف زدہ تھی۔ کیسا عظیم انسان تھا کہ تمام زندگی بھارتی اسیری میں گزاری، رات کی تاریکی میں لحد میں اتارا گیا توبھی زیرحراست تھا۔ سید علی گیلانیؒ کی نظر بندی کے دوران ان الفاظ ” بتاﺅ کیوں بند کررہے ہو۔ کون یہ آرڈر دے رہا ہے۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم آزاد ہیں، جہاں کہیں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔ دروازہ کھولو ، ہم کوئی اُڑ کر تھوڑی چلے جائیں گے، کھولو دروازہ، دروازہ کھولو، دنیا دیکھ رہی ہے تمہاری (ہندوستان) جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے“ پر غور کرتا ہوں تو اپنا ہی گریبان چاک نظر آتا ہے کہ برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود 77 سالوں میں ہم بھی اس پاکستان کی تلاش میں ابھی تک ٹھوکریں کھا رہے ہیں جس کا خواب حضرت علامہ اقبالؒ نے دیکھا اور تعبیر قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مبارک ہاتھوں ہوئی لیکن آزادی کے بعد سے آج تک ہمیں اس سفر میں جمہوریت تو نہ ملی لیکن جمہوریت کا جنازہ ضرور سرپر اٹھائے پھررہے ہیں۔ آج جب مرد حریت سید علی گیلانیؒ کے انتقال اور بھارتی فورسز کی طرف سے ان کی میت زبردستی چھیننے، رات کے اندھیرے میں حیدرپورہ کے نامعلوم مقام پر چند اہل خانہ کی موجودگی میں تدفین کے مناظر دیکھے تو ذوالفقار علی بھٹو، نواب اکبر بگٹی یاد آگئے۔ سید علی گیلانیؒ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سرینگر کے اُردو روزنامہ ”خدمت“ سے کیا۔ سرکاری سکول میں پڑھایا، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تعلیمات سے متاثرہو کرمقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی، سماجی مذہبی پارٹی کے بنیادی رکن رہے۔ سرکاری نوکری کو خیر باد کہہ کر خود کو سیاسی سرگرمیوں کے لئے وقف کر دیا۔ جلد ہی سماجی خدمات اور شعلہ بیانی کے باعث کشمیریوں کے مقبول ترین رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ پہلی گرفتاری 1962 ءمیں ہوئی۔ سالوں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، زندگی بھر نظر بندی کا سامنا کیا۔ 1969 ءمیں پہلی بار مقبوضہ جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ پہلے ہی اجلاس میں سرکاری زبان اُردو میں تقریر کی اجازت نہ دینے پر واک آﺅٹ کیا۔ اپنی سادگی، ایمانداری کی وجہ سے تمام قانون سازوں میں بلند ترین مقام پایا۔ مقبوضہ کشمیر کے قانون ساز ان سے رہنمائی کے لئے رہائش گاہ کے باہر قطاریں بنائے کھڑے رہتے تھے۔ جب شیخ عبداللہ نے مقبوضہ ریاست میں لکڑی چوری روکنے کی آڑ میں پبلک سیفٹی ایکٹ کا سخت ترین قانون لاگو کیا تو انہوں نے اسمبلی کے اندر اور باہر واشگاف الفاظ میں یہ پیش گوئی کی کہ ایک دن یہ قانون شیخ عبداللہ کے خلاف استعمال ہوگا۔ پھر تاریخ نے یہ دن بھی دیکھا۔ تیس جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ حریت کانفرنس حق خودارادیت کی تحریک کو عروج پر لے گئی۔ 2002 کے ریاستی انتخابات میں حریت کانفرنس کی کامیابی یقینی تھی کہ کچھ رہنماﺅں کے خفیہ گٹھ جوڑ کے باعث بھارت نواز امیدوار جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی اختلاف کی بنیاد پر حریت کانفرنس گیلانی گروپ تشکیل دیا گیا۔ سید علی گیلانیؒ وہ واحد مقبول ترین سیاست دان تھے جن کی آواز پر پورا کشمیر بند ہو جاتا تھا ، لوگ کسی بھی وقت سڑکوں پر آکر بھارت کے خلاف احتجاج کرتے تھے حتیٰ کہ اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے۔ ان کی پاکستان سے محبت ناقابل شکست تھی، اصولوں کے پابند، کشمیریوں کے حقوق پر سمجھوتہ نہ کرنے والے سید علی گیلانی ؒ ہی تھے جنہوں نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولے کو واشگاف الفاظ میں رد کیا ۔ کشمیری کمانڈر برہان وانی کی شہادت پر تمام حریت قیادت کو اکٹھا کرکے پورے مقبوضہ کشمیرمیں ایک ہفتہ احتجاج کرکے تحریک آزادی کشمیر کو دوام بخشا۔ 5اگست کے بھارتی اقدام بارے بھی ان کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی ۔ آج سید علی گیلانیؒ ہم میں نہیں لیکن ان کی تحریک کشمیری نوجوانوں کو آزادی کی نوید سناتی رہے گی۔سید علی گیلانیؒ مرحوم کی زندگی ہمارے لئے ایک ایسا سبق ہے کہ اگر ہم چاہیں توعزم و ہمت ، حوصلے اور استقامت کے ساتھ اپنی منزل بآسانی حاصل کرسکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں