نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری

ابھی اس بات کا کھوج لگایا جارہا ہے کہ آخر وہ کون سا حکیم ہے جو خان اعظم کو یہ مشورے دے رہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں میں اختلافات، بیورو کریسی میں آئے دن کی اکھاڑ پچھاڑ سے یہ لولا لنگڑا نظام ہمیں نئے پاکستان میں لے جائے گا۔ یہ جو ہم آئے دن سرکار کی گڈ گورننس کا پوسٹ مارٹم کئے دیتے ہیں اور گورننس کا اصل چہرہ کبھی کھلے تو کبھی ڈھکے چھپے انداز میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں یہ سلسلہ ہمیں (میڈیا) کو بیڑیاں پہنانے سے تھم جائے گا۔ جب سے سرکار برسراقتدار آئے ہیں وہ دن اور آج کا دن ہم صرف یہی دیکھ رہے ہیں کہ آپ ہر سیاسی مخالف بارے خوف کا شکار ہیں۔ حکومت اور اداروں کے درمیان دانستہ بد اعتمادی کی فضا قائم کی جارہی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب سرکار کی میڈیا ٹیم کسی سیاسی مخالف یا ادارے کے سربراہ کی تذلیل نہ کررہی ہو۔ یہ پاکستانی تاریخ کی واحد حکومت ہے جس نے تین سالہ مدت میں ریکارڈ تقرر و تبادلے کئے لیکن تاحال اپنے پوشیدہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ پنجاب کے سات آئی جی، پانچ چیف سیکرٹری صاحبان کی ادل بدل سے اگر آپ اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ پنجاب میں دودھ ، شہد کی نہریں بہنے لگیں گی تو سرکار الحمد للہ! اب تو زبان زد عام ہے کہ پنجاب سول بیورو کریسی کا قبرستان بن چکا ہے۔ بزدار سرکار کسی شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے نہ گاڑے لیکن اس حد تک تو بہت طاقت ور نظر آتی ہے کہ جو کوئی ان کے سامنے لاٹ صاحب بننے کی کوشش کرتا ہے وہ چند ہی ہفتوں میں اپنی کرسی پر نظر نہیں آتا۔ سرکار یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ، خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑ ہی لیتا ہے۔ اب تو پنجاب میں آئے دن کی اعلیٰ انتظامی تبدیلیوں نے یہ تا ثر بھی پیدا کر دیا ہے کہ کوئی بھی افسر اس میوزیکل چیئر کا حصہ بن سکتا ہے۔ کامران علی افضل چیف سیکرٹری، راﺅ سردارعلی خان آئی جی پنجاب تو بنا دیئے گئے ہیں لیکن اعلیٰ بیورو کریٹس اب اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب یہ دونوں صاحبان تبدیل کئے جائیں گے اور وہ خود کب ان عہدوں پر آئیں گے۔ سرکار اعلیٰ بیورو کریسی میں بے یقینی کی یہ کیفیت آپ کی بیڈ گورننس کو گڈ گورننس میں بدل نہیں سکتی۔ پہلے تو لوگ دعائیں مانگتے تھے کہ آپ کسی بات کا نوٹس نہ لیں، جس خرابی کا بھی آپ نے نوٹس لیا وہ پہلے سے بھی زیادہ بُری شکل میں اُبھر کرسامنے آئی۔ آپ کہتے تھے مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی اور غریب آپ سے اُمید لگائے گہری نیند سو رہے تھے اب غریبوں کی نیند اُڑی ہے تو آپ سو رہے ہیں۔ وفاق اور پنجاب میں اس بات کی شہرت بھی ہو رہی ہے کہ آپ جب بھی لاہور تشریف لاتے ہیں جس کسی منتظم اعلیٰ کی بھرے مجمع میں تعریف فرماتے ہیں اُسے ایسی نظر لگتی ہے کہ وہ دوبارہ اپنی سیٹ پر نظر نہیں آتا لیکن صرف چھوٹی سرکار ہی ایک ایسا طلسماتی حصار کئے ہوئے ہے کہ آپ ان کی لاکھ تعریفیں کریں وہ ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ سرکار ہر طرف اُلٹی گنگا بہتی نظر آرہی ہے۔ آپ سے یہ توقع تو بالکل نہیں تھی کہ جس میڈیا نے آپ کو سیاست میں زیرو سے ہیرو بنایا، جس عدلیہ بحالی تحریک میں آپ دل و جان سے شریک ہوئے، جس طرح آپ عدلیہ اورمیڈیا آزادی کے دعوے کرتے تھے آج آپ اُسی میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لئے اتھارٹی بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ نے عدل و انصاف کا نظام تو کیا رائج کرنا تھااُلٹا آپ کے قانونی مشیر اعلیٰ عدلیہ کے ججوں میں اختلافات پیدا کرکے بے انصافی پر اُتر آئے ہیں۔ آپ نے تو غریبوں کو پچاس لاکھ گھر بنا کر دینے تھے ان کی جھونپڑیاں بھی گرا دیں۔ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ توکیا ایفا کرنا تھا سرکاری ملازمین کو بے روزگار کرکے ہزاروں خاندانوں میں صف ماتم بچھا دی۔ جس کرپشن کے خاتمے کے نعرے لگاتے آپ آئے تھے کبھی سرکاری محکموں میں جا کر تو دیکھیں کرپشن اور اقرباءپروری کن حدوں کو چھو رہی ہے۔ آپ دیکھ لیں بھارت میں بیٹھے ہیکرز نے کس طرح ایک ہفتے تک ہمارے پورے خزانے پر پہرہ دیا اور ایف بی آر کا سارا ڈیٹا چرا کر لے گئے۔ ماضی کے چور، ڈاکو قومی خزانہ لوٹنے والے تو کیا پکڑنے تھے آپ کے اپنے قریبی ساتھی وارداتیں کر گئے۔ کسی کو توفیق تک نہ ہوئی کہ انہیں قانون کی گرفت میں لائے۔ ہم آپ جناب کے دور سے گزر رہے ہیں جس میں حکومت عوام کے خلاف، عوام حکومت کے خلاف، پورا نظام ہم سب کے خلاف شُتر بے مہار چلا جارہا ہے۔ یہ کیسی جمہوری ٹرین ہے جس کی نہ اپنی کوئی منزل ہے نہ کوئی مقصد؟ جس ٹریک پر بھی چلانے کی کوشش کریں پٹڑی سے اُتر جاتی ہے۔ آپ سے ایف بی آر کا ڈیٹا تو سنبھالا نہیں جاتا اور زور دے رہے ہیں کہ ان پڑھ، سادہ لو ح لوگ الیکٹرانک مشینوں سے ووٹ ڈالیں، کیا سرکار کو معلوم نہیں کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں دن دھاڑے لوگوں کے ووٹ غائب ہو جاتے ہیں۔ جعلی انگوٹھوں کے نشانوں پر موبائل فون کی سمیں مل جاتی ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں دودھ والے کے اکاﺅنٹس سے اربوں روپے نکل آتے ہیں لیکن چور پھربھی پکڑے نہیں جاتے۔ سرکار جب کہیں کا ڈبہ، کہیں کا انجن جوڑ کر اعظم سواتی جیسے چیف ڈرائیور”سُپرجمہوری ایکسپریس“ بنائے جائیں گے اور وہ اپنی حدود سے نکل کر الیکشن کمیشن حکام کی سرعام تذلیل کریں گے، دھاندلی، پیسہ لینے کے الزامات عائد کریں گے تو ہمیں بھی اتنی آزادی ملنی چاہئے کہ کہہ سکیں کہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی بجائے ایک ایسی اتھارٹی بنائیں جو سواتی جیسے وزراءکی زبانوں کوکنٹرول کرسکے۔ بصورت دیگر نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔

اپنا تبصرہ بھیجیں