چیئرمین کے بجائے ٹیم کے کپتان کی زیادہ دخل اندازی چاہتا ہوں، رمیز راجا

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کے نومنتخب چیئرمین رمیز راجا کا کہنا ہے کہ میں چاہوں گا کہ چیئرمین کی جگہ ٹیم کے کپتان کی دخل اندازی زیادہ ہو اور ٹیم کا ہر کھلاڑی اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔
لاہور میں چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی اولین پریس کانفرنس میں رمیز راجا نے کہا کہ پی سی بی کی تاریخ میں گنے چنے کرکٹر ہی چیئرمین بنے، اب شاید راستہ بنے گا کہ کرکٹر پی سی بی کے انتظامات سنبھالیں، ایک تاثر بن گیا تھا کہ کرکٹر انتظامات نہیں سنبھال سکتے، میں یہاں پر گالیاں کھانے نہیں آیا ہوں، مجھے کسی وجہ سے لایا گیا ہے، چاہوں گا کہ فیڈ بیک کھل کر دیا جائے، اس سے حقائق کا علم ہوتا رہے گا اور ناقدین کو تعمیری جواب دیا جائے گا۔
رمیز راجا نے کہا کہ میرا کرکٹ کے حوالے سے وژن بہت واضح ہے، میری پہلی ترجیح قومی کرکٹ ٹیم میں اُس سوچ اور نظریے کو دوبارہ متعارف کرانا ہے کہ جس نے کبھی پاکستان کو کرکٹ کی سب سے خطرناک ٹیم بنا دیا تھا، کرکٹ کی بہتری کے لیے کچھ طویل اور کچھ قلیل مدتی اہداف ہیں، ہمیں ڈری سہمی پاکستانی ٹیم کو شیر بنانا ہے، ہمیں پاکستان کرکٹ کی سمت بدلنا ہوگی، مستقبل کی کرکٹ میں آپ کو تبدیلی نظر آئے گی۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان اور بھارت کا مقابلہ نہیں ہوسکتا، جب تک ہماری صلاحیتیں بہتر اور تکنیک درست نہیں ہو گی ہم بہتر ٹیم نہیں بن سکتے، کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے طور پر سمجھتا ہوں کہ پیسا وہاں لگے جہاں کرکٹرز اور نظام کی بھلائی ہو اسکول اور کلب کی سطح پر کرکٹ کو فروغ دیا جائے گا، انٹرنیشنل کرکٹرز پیدا کرنے والے کلب کے اخراجات پی سی بی اٹھائے گا، فرسٹ کلاس کھلاڑیوں میں بے چینی اور بے یقینی ہے ، ان کو معلوم نہیں کہ وہ کتنے دیر تک کھیلیں گے اور ان کو پیسے کب تک ملیں گے، فرسٹ کلاس میچز کھیلنے والوں کو ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ ملیں گے۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے منتخب ٹیم سے متعلق رمیز راجا نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بہترین ٹیم منتخب کی گئی ہے، ہمیں نوجوانوں کے ساتھ چانس لینا ہی تھا، دنیا میں کہیں بھی سلیکشن پر اتنی بحث نہیں ہوئی جتنا یہاں ہوئی، ہمیں اس ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، 1992 ورلڈ کپ میں انضمام الحق کو بار بار ناکام ہونے کے باوجود کھلایا گیا کیونکہ وہ میچ ونر تھے۔
نومنتخب چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کی کارکردگی کا انحصار کرکٹ ٹیم پر ہوتا ہے، ہمیں اپنی کوچنگ پر نظر ثانی کرنی ہوگی، مصباح الحق اور وقار یونس نے محنت اور ایمانداری سے کام کیا، ان کے مستعفی ہونے میں میرا کوئی کردار نہیں تھا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لئے آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن کوچ ہوں گے۔ ان کے ساتھ ورنون فلینڈر بھی کوچنگ کریں گے۔ نئے کوچز صرف ورلڈ کپ کے لیے مقرر کیے گئے ہیں، امید ہے ٹی 20 ورلڈ کپ میں یہ دونوں کوچز ٹیم کو جارحانہ حکمت عملی اپنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ نجی بینک کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری ہوئی ہے اور اس نے ہی ان کی فیس ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے میرا کام فیصلہ سازی ہے، مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت مشکل کام ہے، اس لئے چاہوں گا کہ چیئرمین کی جگہ ٹیم کے کپتان کی دخل اندازی زیادہ ہو اور ٹیم کا ہر کھلاڑی اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ بابر اعظم کو ابھی سمجھنا ہے اس کو بطور کپتان دیکھوں گا، کسی بھی شخص میں قیادت کی خاصیت جاننا بہت ضروری ہے، بابر اعظم تینوں فارمیٹس میں کپتان رہتے ہیں یا نہیں ان کو ابھی سمجھ کر ہی فیصلہ کرنا ممکن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں