طالبان کی مدد بھارتی پروپیگنڈا ہے، پاکستان نے افغان فوج کو لڑنے سے منع کیا تھا؟

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ اب بھی ہے، تین دہشت گرد گروہ پہلے سے ہی پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کررہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دورہ تاجکستان کے دوران دوشنبے میں آر ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ طالبان نے 20 برسوں میں بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ تبدیل ہوئے ہیں، افغانستان میں افراتفری اور انسانی بحران سے اس کے تمام ہمسائے متاثر ہوں گے۔
’افغانستان40سال کی جنگی صورت حال کے بعد اب استحکام کی طرف بڑھےگا،اگر اس کی سمت غلط ہوگئی تو وہاں افراتفری، انسانی بحران اور پناہ گزینوں کےمسائل پیدا ہوں گے، انہوں نے کہا کہ طالبان ایک حقیقت ہیں اور وہ اپنے آپ کو دنیا میں تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی افغان حکومت کی مدد سے بہت بڑے انسانی بحران سے بچا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایس سی ای اجلاس میں افغانستان کے تقریباً تمام ہمسایہ شریک ہوئے، پورے خطےکیلئے افغانستان اس وقت سب سے اہم موضوع ہے کیونکہ افغانستان اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ھارت پروپیگنڈا کر رہاہے، پاکستان کیسے اس جنگ میں مدد فراہم کر سکتا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان نے افغان فوج کو لڑنے سے منع کیا تھا؟ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا بہت اہم قدم ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان نے عالمی نشریاتی ادارے آر ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا یا نہیں؟ مجھے علم نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ صدرجو بائیڈن نے کیا وہ سمجھداری کا فیصلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں صدر بائیڈن پر بہت سی ناجائز تنقید ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے خلاف ایک پروپیگنڈہ مہم شروع کی گئی ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ہوا کہ تین لاکھ افغان فوج لڑی ہی نہیں؟ ان کا سوال تھا کہ کیا پاکستان نے انہیں لڑنے سے منع کیا تھا؟ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نکتہ نظر سے افغان سرزمین سے دہشت گردی کا بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق افغان حکومت کی نااہلی ، کرپشن اور مؤثر گورننس نہ کرسکنے کی صلاحیت سے توجہ ہٹانے کے لیے پروپیگنڈہ کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سابق افغان حکومت کو افغانیوں کی اکثریت کٹھ پتلی حکومت سمجھتی رہی،اس لیے اُن کی نظر میں حکمرانوں کی کوئی عزت نہیں تھی، پروپیگنڈےکا دوسرا کردار بھارت ہے جس نےافغانستان میں زیادہ سرمایہ کاری کی، پاکستان کے 22 کروڑ عوام کیلئے پاکستان کا کل بجٹ 50 ارب ڈالر ہے، ہمارا ملک کیسے اس جنگ میں مدد فراہم کر سکتا تھا ، ہماراملک کیسے اس جنگ میں مدد فراہم کرسکتا تھا جوامریکہ پر حاوی ہوگئی تھی۔
پاکستان کی طرف سے طالبان کی مدد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر تصور کر لیا جائے کہ پاکستان نے طالبان کی امریکا کے خلاف مدد کی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان، امریکہ اور تمام یورپی ملکوں سے طاقتور ہے اور یہ کہ پاکستان ایک ہلکے ہتھیاروں سے لیس ملیشیا کے ساتھ جس کی تعدادساٹھ، پینسٹھ، ستر ہزار ہے اور وہ بہترین ہتھیاروں سے لیس تین لاکھ فوجیوں پر مشتمل فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں، وہاں ایسی مشترکہ حکومت ہونی چاہیے جو ملک کو متحد کرے،افغانستان میں20 سال تک طالبان نے انسانی تاریخ کےمہلک ترین جنگی اسلحےکا مقابلہ کیا، اب وہاں امن و استحکام کی واحد صورت مشترکہ حکومت ہے۔ عالمی برادری کی جانب سےافغان حکومت کی مدد جائے تو افغانستان کو انسانی بحران سے بچایا جاسکتا ہے، امریکہ کے اتحادی ہونےکے باوجود 480 ڈرون حملےکیےگئے۔
افغانستان میں مشترکہ حکومت کے قیام کیلئےطالبان کو اپنےوعدوں پر قائم رہنا ہوگا تاکہ دنیا اُن پر بھروسہ کرے۔ ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اکستان نےبھارت کیساتھ امن اور بہتر تعلقات کیلئے اپنی پوری کوشش کی، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ رکھا جاتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ مسلح فوجی تعینات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت جب تک مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات واپس نہیں لیتا اُس وقت تک تعلقات کی بحالی مشکل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور ممکنہ طور پر ایران میں زیادہ پناہ گزین جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں اور ملک کو 150 ارب ڈالرز کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی طاقتوں کے خلاف جنگ کو افغان عوام جہاد سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کسی بھی تنازع کا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑے گا کیونکہ پہلے ہی کورونا وبا اور سپلائی کی کمی کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور مہنگائی ترقی پذیر ممالک کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں