بھارت میں ٹیچر نے اہلیہ کو تاج محل تحفے میں دیدیا

برہان پور: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک ٹیچر نے اپنی اہلیہ کو محبت کی علامت تاج محل جیسا گھر تحفے میں دیدیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنی بیوی سے بے انتہا پیار کرنے والے ٹیچر آنند پرکاش نے برہان پور میں تاج محل کی طرز پر دو منزلہ گھر تعمیر کروایا اور تحفے میں اپنی اہلیہ منجوشا چوکسے کو دیدیا۔
آنند پرکاش کی خواہش تھی کہ اپنی اہلیہ کو ایسا گھر دیں جس سے ان کی بے پناہ محبت کا اظہار بھی ہوتا ہو اور وہ منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت اور عالمی شہرت بھی رکھتا ہو۔
اپنی اس خواہش کی تمنا میں ان کی نگاہ انتخاب تاج محل پر ٹھہری اور انجینیئر کو تاج محل کے ہو بہو گھر بنانے کی ہدایت کی تاہم مقامی انتظامیہ نے 80 فٹ بلند گھر بنانے کی اجازت نہیں دی۔
جس کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ تاج محل سے ملتا جلتا گھر تعمیر کیا جائے اس طرح 4 کمروں، بڑا ہال، لائبریری اور ایک جیم پر مشتمل دو منزلہ گھر کا نقشہ منظور ہوگیا۔
90 مربع میٹر کے رقبے پر محیط تاج محل نما گھر کی تعمیر میں 3 سال کا وقت لگا جس میں 29 فُٹ اونچا گنبد اور چار اونچے مینار بھی ہیں۔ ماہر انجینیئر نے گھر کو تھری ڈی امیج کی مدد سے بنایا ہے۔
آنند پرکاش نے میڈیا سے گفتگو میں حیرت کا اظہار کیا کہ انھیں نہیں معلوم کہ بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز کے لیے تاج محل آگرہ میں کیوں بنایا حالانکہ ان کی اہلیہ کا انتقال تو برہان پور میں ہوا تھا۔
گھر بنانے والے کنسلٹنٹ انجینیئر پراوین چوکسے نے بتایا کہ اس گھر کی خاص بات اندھیرے میں بھی اصلی تاج محل کی طرح روشن دکھائی دینا ہے جس کے لیے بڑی مہارت سے عمارت کو اندر اور باہر خصوصی روشنیوں سے آراستہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سات عجائب میں سے ایک تاج محل کی تعمیر بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی پسندیدہ بیوی ممتاز کے مقبرے کے لیے تعمیر کرائی تھی جو عمارت 1632 سے 1650 تک 25 برسوں میں مکمل ہوئی اور 1983 میں اقوام متحدہ نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں