باقی سب خیر ہے

خان اعظم کو اسی لئے مرشد تسلیم کرکے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی کہ وہ جو کچھ سوچتے ہیں جس طرح چاہتے ہیں، اپنے موکلوں کی طاقت سے اپوزیشن کی گردن پرپاﺅں رکھ کر گزرجاتے ہیں۔ اب اللہ جانے کون بشر ہے کہ اپوزیشن اسی زعم میں مبتلا رہی کہ مرشد اور موکلوں کا صفحہ لیرو لیر ہو چکا ہے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ان دونوں کا کوئی توڑ نہیں۔ پاکستان کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ عمرانیات کے طالب علموں کو ایک ایسا سبق پڑھایا جارہا ہے جس کے ابتدائی صفحے پر ہی یہ لکھا ہے کہ یوٹرن تو اچھے ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک گھنٹے کے اندر 33 حکومتی بلوں کی منظوری کی کہانی تو تحریک انصاف کے مستعفی رکن اسمبلی عامر لیاقت نے ان الفاظ میں بیان کردی کہ ” ہم آئے نہیں، لائے گئے ہیں اور بڑے اہتمام سے لائے گئے ہیں“ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو کون لائے ہیں؟ تو عرض کیا ”جناب!جو لاتے ہیں، وہی لائے ہیں“ یہ بھی ہماری پارلیمانی تاریخ کا انوکھا ترین واقعہ ہے کہ موصوف اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو چکے تھے اور صدر نشین مجلس شوریٰ نے نہ صرف انہیں مشترکہ ایوان میں داخلے کی اجازت دی بلکہ ”اُلٹی گنتی“ میں ان کا شماربھی کیا اور جب اپوزیشن نے پہلی گنتی میں 221 حکومتی ووٹوں میں ایوان میں موجود غیر منتخب شدہ ”مہمانان خاص “ اور مشیروں کو بھی شمار کرنے پر اعتراض کیا تو صدر نشین کے چہرے پر اُڑنے والی ہوائیاں بھی قابل دید تھیں کہ انہیں بوکھلاہٹ میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرانے کی رولنگ دینا پڑی، اس رولنگ پر حکومتی بنچوں پر صفت ماتم بچھی کہ آخر یہ ہوا کیا ہے؟ مرشد کو کامل یقین تھا کہ وہ آج میدان فتح کرکے ہی نکلیں گے۔ سو وہ کہتے رہے کہ دوبارہ گنتی ہونے دو لیکن صدر نشین کو فرشتوں نے خبر کردی کہ تم ہی کوئی تدبیر کرو، یہی وہ وقت نزع تھا کہ جب اپوزیشن حکومتی جال میں پھنسی۔ طے شدہ منصوبے کے تحت ایوان میں دھکم پیل ، دھینگا مشتی، تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ایک دوسرے کی توجہ ہٹا کر دوسری گنتی رکوائی گئی اور پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار”وائس ووٹنگ“ کی ایک انوکھی روایت ڈالی گئی۔ جس کا کسی کو وہم و گمان تک نہ تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کے واک آﺅٹ کے دوران لگے ہاتھوں ووٹنگ مشین سے آئندہ عام انتخابات کرانے کا بل (جو مشیر قانون بابر اعوان نے اجلاس کے آغاز میں ہی مو ¿خر کرنے کا اعلان کردیا تھا) وہ بھی منظورکراکے اپوزیشن کو ناک آﺅٹ کردیا۔ عمرانیات کے طالب علموں نے مرشد کے کمالات کو عملی انداز میں دیکھا کہ ایک ہی چٹکی میں اپوزیشن کے ساڑھے تین سال سے جاری بینڈ باجے کا کیسے مکو ٹھپا۔ یہ ہوتی ہے جمہوریت، یہ ہے ہماری پارلیمانی روایات اور اس طرح ہوتی ہے قانون سازی اور ایسی ہوتی ہے ٹھس اپوزیشن کہ چھوٹے میاں صاحب مفاہمت مفاہمت کی بین بجاتے رہ گئے، قانون سازی سے قبل ایوان میں اپنے خطاب کے دوران گونگلوں پر سے مٹی جھاڑتے رہے، بلاول بھٹو ہر آئینی نکتے پر دھواں دار تقریر کرتے نظر آئے، بات عقل و دلیل سے کرتے اور ایوان میں پیش کئے گئے ایک ایک بل پر واضح موقف اور مستقبل کے خدشات کا اظہار کیا مگر گلاس توڑا بارہ آنے کہ عام آدمی بھی اتنی عقل رکھتا ہے کہ صدر نشین مجلس شوریٰ سے سوال پوچھ سکے کہ یہ ”وائس ووٹنگ “ کیا بلا ہے اور اس کی قانونی و آئینی حیثیت کیا ہے؟ اور اپوزیشن سے بھی پوچھا جائے کہ ایوان چھوڑ کر جانے کی کیا ضرورت تھی اور دوسری گنتی کو ”وائس ووٹنگ“ میں تبدیل کرنے پر سٹینڈ کیوں نہیں لیا؟ اور یہ بھی کہ ایسی ووٹنگ کے اندراج کا قانونی طریقہ کار کیا ہے؟ جب پتہ تھا کہ قانونی بلوں کی منظوری کے لئے 222 ووٹوں کی سادہ اکثریت درکار ہے تو 221 ووٹوں پر چپ کیوں رہے؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مستعفی ہونے والے رکن عامرلیاقت کا ووٹ چیلنج کیوں نہیں کیا گیا؟ محسوس یہی ہوتا ہے کہ مرشد کے موکلوں کے دم درود سے ہماری اپوزیشن کا بھی دم نکلا جارہا ہے۔ عمرانیات کے طالب علموں کے لئے تاریخ کا یہ نیا سبق ہے کہ کلبھوشن یادیو نامی جس بھارتی جاسوس نے بلوچستان میں ہماری جڑیں کھوکھلی کیں، سینکڑوں پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگے اور اعتراف جرم بھی کرلیا، ہماری پارلیمنٹ نے اسی قاتل کو باعزت رہائی کا پروانہ جاری کرنے کا بھی خاص اہتمام کردیا، آئیے ہم آپ کو سمجھاتے ہیں کہ یوٹرن کیسے لئے جاتے ہیں؟ گزشتہ ماہ اچانک ہماری وزارت خارجہ والے چھوٹے مرشد (آدھے وزیراعظم) نے سری نگر سے اُڑنے والے بھارتی طیارے کو پاکستانی فضائی حدود سے گزر کر شارجہ جانے کی اجازت دی، جہاز میں کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں لانچ کرنے والے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ سفر کررہے تھے توہمارا ماتھا اسی وقت کھٹک گیا تھا کہ اچانک بند راہیں کیسے کھل گئیں، پرواز بھی مقبوضہ کشمیر سے اُڑی، متحدہ عرب امارات جا پہنچی، پھر مودی جی پاکستان کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے امریکہ جا پہنچے۔ بدلتا ہے آسماں رنگ کیسے کیسے۔ یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ایک طرف دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن ہزاروں سکھ یاتریوں کو بابا گورونانک کے جنم دن کے موقع پر ویزے جاری کررہا تھا دوسری طرف بھارت سرکار کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کررہی تھی۔ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ ،بی جے پی کے رہنما ایک بڑا جتھہ لے کر کرتار پور ماتھا ٹیکنے بھی آگئے۔ اب ہماری جونیئر ہاکی ٹیم ورلڈکپ کھیلنے بھارت پہنچ چکی ہے۔ ہمیں آئی سی سی نے کرکٹ کا ایک بڑا ایونٹ پاکستان میں کرانے کی بھی اجازت دے دی ہے۔سمجھ تو سب کچھ آرہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہونے جا رہا ہے۔ چپ میں ہی سُکھ ہے۔ مرشد ! تینوں رب دیا ں رکھاں، ہزاروں پاکستانی و کشمیری شہداءکے خون، بھارتی مظالم سہنے والے لاکھوں مسلمانوں کی لاج رکھنا ،باقی سب خیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں