وہاب ریاض نے ٹیم میں واپسی کی آس نہ چھوڑی

وہاب ریاض نے قومی ٹیم میں واپسی کی آس نہ چھوڑی جب کہ پیسر کا کہنا ہے کہ اب بھی پاکستان کیلیے کھیلنا چاہتا ہوں۔پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ کوابوظبی سے خصوصی انٹرویو میں وہاب ریاض نے کہا کہ میں اب بھی پاکستان کیلیے کھیلنا چاہتا ہوں، دنیا کی مختلف لیگز میں شرکت اور پرفارم کررہا ہوں تاکہ قومی ٹیم میں جلد واپسی ہو،ابھی میری پوری توجہ کرکٹ پر مرکوز ہے،ٹی 10لیگ کے بعد سری لنکن پریمیئر لیگ اور پھر پی ایس ایل میں شرکت کرنا ہے، کمنٹری میں کیریئر کے بارے میں سوچنے کا وقت 4،5سال بعد آئے گا، میں خود کو بطور کرکٹر سرگرم رکھنا چاہتا ہوں تاکہ قومی ٹیم کیلیے کال آئے تو فٹ اور ردھم میں نظر آؤں، امید ہے کہ محنت کا پھل ملے گا۔انھوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں پاکستان کی ٹائٹل فتح یقنی نظر آرہی تھی مگر بدقسمتی سے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں مات ہوگئی،حسن علی کیچ تھام لیتے تو میچ وننگ ثابت ہوسکتا تھا، کرکٹ میں ایسا ہوجاتا ہے مگر میں نہیں سمجھتاکہ گرین شرٹس صرف اس وجہ سے ہارے،آخری اوور میں 9 یا 10رنز درکار ہوتے تو جیت کی امید ہوسکتی تھی، میچ میں کئی دیگر غلطیاں بھی ہوئیں، صرف حسن علی کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں۔
وہاب ریاض نے بنگلادیش کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کلین سوئپ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی کنڈیشنز میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کو شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، خوش آئند بات ہے کہ پاکستان ٹیم مثبت نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہی، کارکردگی میں مزید بہتری آنے پر آسانی سے فتوحات بھی حاصل ہوں گی، انھوں نے کہا کہ بابر اعظم نے گذشتہ 2 سال میں تسلسل کے ساتھ پرفارم کیا،بنگلہ دیش میں اچھی کارکردگی نہ دکھاپانا کوئی تشویش کی بات نہیں، کرکٹ میں ایسا ہوجاتا ہے۔وہاب ریاض نے آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اسپیشلسٹ بولرز اور بیٹرز کھلانے کا مشورہ دے دیا، پیسر نے کہا کہ آسٹریلیا میں آئندہ سال ہونے والے میگا ایونٹ میں اسپنرز کا کوئی خاص کردار نہیں ہوگا، زیادہ فاسٹ بولرز کی ضرورت ہوگی، سائیڈ باؤنڈریز چھوٹی اور شارٹ بولنگ بھی ہوگی، پاکستان کو اسپیشلسٹ بیٹرز اور بولرز پر انحصار کرنا ہوگا،اگر آل راؤنڈرز کو لینا ہے تو جیک کیلس جیسے ہوں جو دوسرے یا تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے ساتھ 145کلومیٹر کی رفتار سے بولنگ بھی کرسکیں۔
وہاب ریاض نے ٹی 10کرکٹ کو بولرز کیلیے مہارت میں بہتری کا ذریعہ قرار دے دیا،انھوں نے کہا کہ ٹی 10بہت تیز فارمیٹ اور بولر کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے،غلطی کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے،مہارت میں آنے والی بہتری ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچز کھیلتے ہوئے بھی کارآمد ثابت ہوتی ہے، ٹی 10لیگ میں دکن گلیڈی ایٹرز کی قیادت کرنے والے پیسر نے کہاکہ میری ٹیم میں پروفیشنل کرکٹرز موجود ہیں، سب پرفارم کررہے ہیں،اس لیے بطور کپتان میرا کام آسان ہوجاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں