(روزنامہ جرأت)پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی اہلیہ نائلہ راجہ نے اپنی ازدواجی زندگی پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ اگر دو لوگوں کا ساتھ قسمت میں نہ لکھا ہو تو وہ ایک نہ ایک دن ایک دوسرے سے جدا ہو ہی جاتے ہیں، اس کا ذمے دار کسی ایک شخص کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔نائلہ راجہ اس وقت عوامی توجہ کا مرکز بنی تھیں جب سوشل میڈیا پر ان کے اور عماد وسیم کے تعلق سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ ابتدا میں دونوں نے ان خبروں کی تردید کی، تاہم بعد ازاں عماد وسیم نے اپنی پہلی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد نائلہ راجہ سے شادی کر لی۔ اس کے بعد سے یہ جوڑی اکثر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرتی رہی ہے۔نائلہ راجہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر وقتاً فوقتاً عماد وسیم کے ساتھ اپنی نجی زندگی کے خوشگوار لمحات مداحوں کے ساتھ شیئر کرتی رہتی ہیں، لیکن ان کی متعدد پوسٹس پر ناقدین کی جانب سے سخت تبصرے بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔حال ہی میں ایک صارف کے تنقیدی تبصرے کے جواب میں نائلہ راجہ نے کہا کہ اگر دو افراد کا ایک ساتھ رہنا ان کی تقدیر میں نہ ہو تو وہ بالآخر الگ ہو جاتے ہیں، اس لیے ہر معاملے میں کسی ایک شخص کو قصوروار ٹھہرانا درست نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی شادی ان کی زندگی کا صرف ایک حصہ ہے، پوری زندگی نہیں، اور وہ اپنی شناخت کو صرف ازدواجی رشتے تک محدود نہیں سمجھتیں۔
نائلہ راجہ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے سخت تبصرے کیے، جبکہ کچھ افراد نے ان کے بیان کو ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنی زندگی اور فیصلوں کے بارے میں اظہارِ خیال کا حق حاصل ہے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ایسی بات صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو کسی اور کا شوہر اپنا بنا لے، جبکہ ایک اور صارف نے کہا کہ علیحدگی کو صرف تقدیر کا نام دینا بہت سے لوگوں کے لیے قابلِ قبول نہیں۔




