jamaat e islami strike

جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال، کاروباری مراکز بند، کراچی میں نامعلوم افراد کا جلاؤ گھیراؤ

کراچی:(روزنامہ جرأت) پیٹرولیم مصنوعات اور لیوی ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ کراچی میں نامعلوم افراد کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔کورنگی کراسنگ کے قریب نامعلوم افراد نے جلاو گھیراو شروع کیا، نامعلوم افراد نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور ٹائر نذر آتش کیے، نامعلوم افراد نے دو موٹر سائیکلیں بھی نذر آتش کیں۔موسمیات، صفورا چورنگی اور اطراف میں بھی نامعلوم افراد کی جانب سے کاروبار بند کروا دیا گیا، صبح سویرے کھلنے والی دکانیں اور پیٹرول پمپس بند کروائے گئے۔ادھر، کراچی بار ایسوسی ایشن نے بھی جماعت اسلامی اور تاجروں کی اعلان کردہ ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
کراچی بار کے مطابق کراچی بار کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے پریس کلب تک مہنگائی کی خلاف پرامن ریلی نکالی جائے گی، ہڑتال اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سے وکلاء اور سائلین کو سٹی کورٹ پہنچنے میں دشواری ہوسکتی ہے، عدالت سے گزارش ہے کہ وکلا یا سائلین کی عدم حاضری پر کوئی سخت آرڈر جاری نا کیا جائے۔جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کے دل ریگل چوک صدر میں کھڑے ہیں، پورے کراچی اور پاکستان کی تاجر برادری آج کی ہڑتال بھرپور کامیاب بنائیں، پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف تاجروں کی ہڑتال قابل ستائش ہے، آج کراچی کی سیکڑوں مارکیٹس اور بازار بند ہیں۔
منعم ظفر نے کہا کہ فی لیٹر 130 روپے کا بھتہ ٹیکس ظلم ہے، لیوی کے نام پر بھتہ ٹیکس قبول نہیں، کاروباری مراکز میں 12 سے 18 گھنٹے بجلی نہیں ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ حکمرانوں کے لیے بجلی، گیس اور پیٹرول مفت جبکہ عوام پر لیوی بھتہ عائد ہے۔امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر دارالحکومت کے کاروباری و تجارتی مراکز جزوی طور پر بند ہیں، تاجروں نے جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کی حمایت کر دی۔سپر مارکیٹ، آبپارہ، جی ایٹ، جی نائن سمیت مختلف کاروباری مراکز میں زیادہ تر دکانیں بند ہیں۔ شہریوں نے امیر جماعت کی اپیل پر آج اپنے کاروبار بند کر دیے۔راولپنڈی شہر و کینٹ کے تجارتی مراکز میں کاروبار زندگی جاری ہے، تنظیم تاجران پاکستان نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ بعض علاقوں میں اکا دکا دکانیں بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی کال پر ملک گیر ہڑتال کے سبب لاہور میں کوئینز روڈ، عابد مارکیٹ، ہال روڈ، مال روڈ، نسبت روڈ مارکیٹ، فیروزپور روڈ اور برانتھ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز بند ہیں۔
مال روڈ پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور تاجر برادری آمنے سامنے آگئی، کارکنان اور تاجروں میں تلخ کلامی ہوگئی جبکہ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ ہڑتال کے معاملے پر اختلاف کے باعث مال روڈ میدانِ جنگ بن گیا۔
دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوئی۔ مال روڈ پر تصادم کے باعث ٹریفک بھی متاثر رہی۔جماعت اسلامی کی طرف سے موٹر سائیکل ریلی بھی نکالی گئی۔ ریلی دھرنے والی جگہ چیئرنگ کراس سے شروع ہوکر ریلوے اسٹیشن برانڈرتھ روڈ، مکلوڈ روڈ اور ہال روڈ سے ہوتے ہوئے واپس چیئرنگ کراس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق ہال روڈ سے گزرتی موٹر سائیکل ریلی کو پولیس نے روکنے کی کوشش کی اور بعض کارکنان کو گرفتار کر لیا، قانونی امداد فراہم کی جائے گی۔جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر محمد جاوید قصوری کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ لاہور سمیت دیگر علاقوں میں جماعت اسلامی کے کارکنان پر پولیس تشدد قابل مذمت ہے، پولیس کی جانب سے زبردستی دکانیں کھلوانے کی کوشش شرمناک اقدام ہے۔
محمد جاوید قصوری نے کہا کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے، عوام کے پرامن احتجاج کو طاقت سے دبانا قابل قبول نہیں۔ جماعت اسلامی ایک پرامن اور جمہوری تحریک چلا رہی ہے، کارکنان پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں۔
ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی پیٹرولیم لیوی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف ہڑتال جاری ہے۔
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پشاور کے اشرف روڈ پر احتجاج کیا جس میں مقامی تاجر بھی شریک ہوئے۔مظاہرے میں حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی گئی جبکہ مظاہرین نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی ٹیکس مسترد کر دیا۔پشاور میں ہڑتال کے اعلان پر جزوی عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ قصہ خوانی بازار، صدر، یونیورسٹی روڈ سمیت بیشتر بازاروں میں دکانیں کھلی ہیں۔

ترجمان جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں جاکر تاجروں کو ہڑتال پر آمادہ کریں گے۔جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبد الواسع نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کے تاجروں کا شکر گزار ہوں کہ ہڑتال میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیا، تاجروں نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔خیبرپختونخوا بار کونسل کی کال پر وکلاء نے آج عدالتی بائیکاٹ کیا ہوا ہے، پشاور ہائیکورٹ سمیت صوبے بھر میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ اشیاء خورونوش اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے، اس کے خلاف آج عدالتی بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ضلع دیر کے تمام چھوٹے اور بڑے کاروباری مراکز مکمل بند ہیں جبکہ ہڑتال کے سبب سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہوگئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تمام سیاسی جماعتوں نے جماعت اسلامی کی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ وکلا برادری نے بھی آج بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کا دو روز قبل خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہڑتال کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے اور مسئلہ حل نہ ہوا تو حکومت گراؤ تحریک چلائیں گے۔حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کراچی کی تمام مارکیٹوں کی تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے، لاہور کے تاجروں نے بھی حمایت کی ہے اور کل تمام مارکیٹیں بند ہوں گی۔ جنوبی پنجاب میں بھی بڑے بڑے احتجاجی کیمپ لگے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی حمایت بڑھ رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہا کہ لیوی بھتہ، بجلی کے فکسڈ چارجز سے ہر کوئی پریشان ہے، راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی کی تمام مارکیٹیں بند ہوں گی، ہمارا ذاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ عوام کے حقوق کے لیے نکلے ہیں۔پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات آج منصورہ میں ہوں گے، حکومتی وفد دوپہر کو منصورہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کریں گے، جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں ڈپٹی سیکریٹری فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری اور نوید علی بیگ شامل ہیں۔حکومت کی جانب سے مذاکراتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور بلال کیانی شامل ہوں گے۔ حکومتی وفد کے ہمراہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود ہوں گے جو مذاکرات کے دوران حکومتی اقدامات اور تجاویز پر بریفنگ دیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عوام کے لیے ریلیف پیکج پیش کیے جانے کی صورت میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن بھی حکومتی وفد سے ملاقات کریں گے۔
مذاکرات ظہر کے بعد منصورہ میں ہونے کا امکان ہے۔ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی اور مہنگی بجلی سمیت عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں