(روزنامہ جرأت)این سی سی آئی اے نے ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے کیس میں معروف ٹی وی اینکر اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کردیا۔
عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ آپ پر تشدد تو نہیں کیا گیا، ملزم نے عدالت میں جواب دیا کہ مجھے مارا پیٹا نہیں گیا، عدالت نے کہا کہ آپ کا کوئی وکیل ہے، ملزم نے جواب دیا کہ نہیں ابھی تک کوئی وکیل نہیں کیا ہے۔
این سی سی آئی اے نے کہا کہ ہمیں ملزم کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ درکار ہے، ملزم سے کیس کے سلسلے میں تفتیش کرنی ہے۔عدالت نے اقرار الحسن کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا، اقرار الحسن کیخلاف این سی سی آئی اے میں مقدمہ نمبر 101/2026 درج ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اقرار الحسن کو لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جب کہ اہل خانہ نے رات گئے گرفتاری کا الزام عائد کیا۔ذرائع کے مطابق رات تقریباً 3 بجے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار اقرار الحسن کو ان کے گھر سے اپنے ساتھ لے گئے۔
بتایا گیا کہ اہلکاروں کے ہمراہ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں جن کے بیجز پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) درج تھا۔واضح رہے کہ اقرار الحسن ایک سیاسی جماعت پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ اور نجی ٹی وی کے سابق اینکر رہے ہیں۔ تاحال اقرار الحسن کی گرفتاری کی وجوہات اور ان کے خلاف کسی مقدمے کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔




