مجبور ومحکوم کشمیر کی پکار

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو روزہ نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ مستحکم پاک بھارت تعلقات سے مشرقی اور مغربی ایشیا کو منسلک کرتے ہوئے جنوب اور وسط ایشیا کی صلاحتیں برؤے کار لائی جا سکتی ہیں۔ ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کا وقت ہے،بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں خاص طور پر ماحول ساز ار بنانا ہوگا۔ بشمول پاکستان دنیا کے بہترین دانش وروں کی موجودگی میں تقریب کا حصہ بننا میرے لئے اعزازکا باعث ہے۔اُمید ہے کہ جو دانش ور اور سکالر یہاں موجود ہیں اور جو ورچوئل شرکت کر رہے ہیں، وہ نہ صرف پاکستان کی سیکیورٹی پر بات کریں گے بلکہ تجاویز بھی مرتب کریں گے کہ پاکستان مستقبل کے درپیش چیلنجوں سے کیسے نمٹ سکتا ہے۔ میں ڈائیلاگ کی اس کوشش کو سراہنا چاہتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ مثبت سوچ اور پالیسی سازی کا رجحان بر قرار رہے گا۔ خطے میں وجہ تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے، جس کا حل ہونا ضروری ہے۔ آج خطے میں غربت اور افلاس کی بڑی وجہ یہی تنازعہ ہے۔
جنوبی ایشیا میں مستقل قیام امن کے حوالے سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا بیان خوش آئند اور بھارت کو دعوتِ فکر دیتا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے بار بار با مقصد مذاکرات کی دعوت اور خواہش کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھے،جس طرح یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر خطے میں مستقل قیام امن کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہے، اس طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ پاک بھارت مستحکم تعلقات ہی خطے میں معیشت اور معاشرت میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کے خلوص کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارت کو دعوت دی ہے کہ آئیں ماضی بھلا کر آگے بڑھیں تاکہ امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ کہنے کو یہ ایک فقرہ ہے مگر تلخ ماضی کے آئینہ میں یہ کتنا دل دہلا دینے والا ہے اس کا احاطہ الفاظ میں ممکن نہیں۔ کیا یہ تاریخی حقیقت نہیں کہ مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کا نا مکمل ایجنڈا ہے اور آج تک اس لئے حل طلب چلا آرہا ہے کہ ایک تو تقسیم ہند کے وقت تقسیم کاروں نے ایسی ضرب کاری لگائی جس کی ٹیسیں آج تک محسوس کی جا رہی ہیں، دوسرا یہ کہ بھارت اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے منحرف ہوچکا ہے، جس کا اہم ثبوت 5 اگست 2019ء کا بھارتی اقدام ہے جس کے تحت بھارت سرکار نے اپنے ہی آئین کو پامال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر وادی کو بھارت میں ضم کر لیا اور تب سے 90 لاکھ مظلوم اور نہتے کشمیری جبری قیدکی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ کیا بھارت سرکار نہیں جانتی کہ اس نے تاریخی حقیقت کو جھٹلایا ہے اور اس پر شرمندگی محسوس کرنے کے بجائے عالمی برادری کو آنکھیں بھی دکھائی جا رہی ہیں۔ اس پس منظر میں بھارت کے ظلم اور جبر کے لامتناہی سلسلے کی اذیت کا متبادل ایک ہی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے فوجیں نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے 5اگست 2019ء کا اقدام واپس لے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جس کا ادراک بھارت سرکار کو ہونا چاہیے اس لئے کہ کوئی دن اور لمحہ خالی نہیں جاتا جب مقبوضہ کشمیر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند نہیں ہو رہے ہوتے اور بھارت سرکار کی گولیوں سے شہادت پانے والوں کے جنازے پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفنائے نہیں جاتے ہیں۔یہ وہ زمینی حقائق ہیں جو بھارت سمیت اقوام متحدہ کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کے لئے جو کچھ کر رہا ہے، کشمیریوں کا وکیل اور مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہونے کے ناطے کر رہاہے اور تب تک کرتا رہے گا، جب تک یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو نہیں جاتا۔ مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے خاص طو رپر ایسے وقت پر جب بھارت ایل او سی پر جنگ بندی کے معاہدہ کی تجدید کرتے ہوئے ان دنوں جارحیت سے باز آچکاہے۔ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت سونے پر سہاگہ کے مترادف ہے، اب یہ بھارت کے سوچنے اور سمجھنے کا وقت ہے کہ پاکستان کی اس دعوت کو کس تناظر میں دیکھتا ہے۔
جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں قیام امن کے لئے ڈائیلاگ کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ ڈائیلاگ مفید اسی صُورت ہو سکتے ہیں جب ان میں مرتب شدہ تجاویز پر عمل کیا جائے۔ امن کی کوئی بھی تجویز بری نہیں ہوتی بشرطیکہ فریقین کے مفادات پر یکساں نظر رکھی جائے اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ جارح کون ہے۔ یہ کھلی حقیقت ہے کہ ماضی میں مسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے مابین جتنے بھی ڈائیلاگ ہوئے،ان کے بامقصد ثابت نہ ہونے کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے حقائق کو تسلیم نہ کیا جانا ہے۔پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت اپنی جگہ ایک مثبت قدم ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اگر بھارت مذاکرات پر آمادہ ہو بھی جاتا ہے تو اب مذاکرات کا آغاز کہاں سے ہوگا کہ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدام کے بعد یہ ایشو اور بھی سنگین ہو چکا ہے۔ ماضی میں عالمی سازشیں کچھ اس طرح پروان چڑھتی رہی ہیں کہ اقوام متحدہ کی قرار دادیں ان سازشوں کی دھول میں دب چکی ہیں۔اس پر بھارتی جارحیت کی انتہا اور امریکہ کی اشرباد کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین صُورت حال اختیار کر چکا ہے اگر مسئلہ کشمیر زندہ ہے اور حالات کے تناظر میں اس میں شدت آئی ہے تو اس کی وجہ کشمیریوں کی جد وجہد آزادی ہے، جو بھارت سرکار کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہیں۔ماضی کو بھلا کر خطے میں معاشی ترقی کے لئے آگے بڑھنے کی خواہش کا اظہار کرتے وقت یہ بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ اس خواہش کے کشمیریوں کی جدوجہد پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، کہیں کشمیریوں کا موقف کمزور تو نہیں ہوگا اوریوں کشمیری مجاہدین کے دلو ں پر کیا بیتے گی۔ یہ وہ حقائق ہیں جن پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ امن کی خواہش کا اظہار یکہ طرفہ نہیں ہونا چاہیے، دونوں طرف سے ہونا چاہیے اور مذاکرات سے قبل یہ طے ہونا ضروری ہے کہ اب مذاکرات کا آغاز کہاں سے کرنا ہے نیز نئے مذاکرات کی صورت میں ہمارے پرانے مؤقف کی کیا حقیقت باقی رہے گی کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر پر اپنے مؤقف کا اظہار تو کرتا چلا آ رہا ہے مگر ڈھیلے ڈھالے انداز میں یہاں تک کہ بڑی طاقتوں سے تو بات ہی معذرت خواہانہ انداز میں ہوتی رہی ہے گذشتہ نصف صدی سے پاکستان کی سیاست کا محور دو ہی مسئلے چلے آ رہے ہیں،مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے غریب عوام۔ افسوس کہ دونوں مسئلے حل نہیں ہوئے، صرف دعوے ہوئے اور تجاویز آئیں وہ بھی سرکاری فائلوں کی نذر ہوگئیں اور آج نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کو بھارت میں ضم کر لیا ہے۔ وقت گزرتا جا رہا ہے بھارت کے مظالم رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کے حکام مفادات کی سیاست میں اتنے پھنس چکے ہیں کہ انہیں کشمیریوں کی پکار سنائی نہیں دے رہی۔ یہ کہتے چلے جانا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، ہم مسئلہ کشمیر کے اہم فریق اور وکیل ہیں،اس کا بھارت سرکار کی صحت پر کوئی اثر نہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کے 5اگست کے اقدام پر قوم اس طرح ایک صفحہ پر ہوتی کہ ایک تو حکومت پاکستان اقوام متحدہ کے دروازہ پر دستک دیتی، شنوائی نہ ہوتی تو او آئی سی کا اجلاس بلایا جاتا اور عالم اسلام سے مطالبہ کیا جاتا کہ وہ جارح بھارت کا ہاتھ روکنے میں پاکستان کی مدد کرے۔ نتیجہ جو بھی ہوتا یقینا حقائق سامنے آتے اور پتہ چلتا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کون ہمارے ساتھ ہے اور کون بھارت کے ساتھ اور کون لاتعلق ہے۔ ایسا اس لئے نہیں ہو سکا کہ پاکستان اس تنازعہ کے حل کے لئے کھُل کر نہیں کھیل سکا۔ بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے بعد پاکستان کا احتجاج صرف بیانات اور تقریروں تک محدود رہا ہے۔ کشمیر کمیٹی تک محض مراعات سمیٹنے میں مصروف رہی ہے۔ اس بے حسی پر جتنا بھی کف افسوس ملاجائے کم ہے اور اب ماضی بھلا کر آگے بڑھنے کی دعوت بھی عجلت میں دی جا رہی ہے۔ یہ سوچنا ہوگا کہ کہیں ا س طرح مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف کمزور تو نہیں ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے اہم ایشو پر پہلے پارلیمنٹ سے رجوع کیا جائے جو قومی معاملات کے حل کرنے کا اہم پلیٹ فارم ہے۔ بحیثیت قوم ہماری انہی غلطیوں اور عجلت میں کئے گئے فیصلوں سے بھارت ماضی کی طرح اب بھی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ پاکستان کو چاہیے مسئلہ کشمیر میں اپنے دیرینہ موقف پر قائم رہے کہ مسئلہ کشمیراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہونا چاہیے تاکہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں اور خطے میں قیام امن یقینی ہو سکے.

اپنا تبصرہ بھیجیں