فخر زمان اور ڈی کوک کا تنازعہ، فیصلہ امپائر کریں گے: ایم سی سی

جوہانسبرگ (جرات نیوز) میریلیبون کرکٹ کلب(ایم سی سی) نے جنوبی افریقہ کیخلاف دوسرے ون ڈے فخر زمان کے متنازعہ رن آٹ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی کوک نے توجہ ہٹانے کی کوشش کی تھی یا نہیں یہ فیصلہ امپائر کریں گے۔ ایم سی سی دنیا کا قدیم ترین کرکٹ کلب ہے اور دنیائے کرکٹ میں اس کا کافی اثرورسوخ مانا جاتا ہے۔ قومی ٹیم کے اوپنر فخر زمان جنوبی افریقہ کیخلاف آخری اوور کی پہلی گیند پر اس وقت آٹ ہوگئے تھے جب پاکستان کو چھ گیندوں پر 31 کی ضرورت تھی۔زمان اور حارث رف دوسرا رن مکمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے جب وکٹ کیپر ڈی کوک نے بولر والی سائیڈ کی طرف اشارہ کیا، فخر زمان اپنی کریز میں پہنچنے والے تھے لیکن ڈی کوک کا اشارہ دیکھ کر وہ آہستہ ہوگئے۔فیلڈر ایڈن مارکرم نے وکٹ کیپر کی طرف تھرو پھینکا جو سیدھا وکٹوں میں لگا اور فخر زمان193 پر آٹ ہوگئے۔ اس رن آٹ کے بعد بحث چل پڑی ہے کہ ڈی کوک نے جان بوجھ کر غلط اشارہ کیا کہ گیند بالر کی طرف پھینکی جا رہی ہے، غلط اشارے سے فخر زمان نے اپنی رفتار آہستہ کی اور آوٹ ہوگئے۔آئی سی سی قانون 41.5.1 میں کہا گیا ہے کہ کوئی فیلڈر کا جان بوجھ بیٹسمین کی توجہ ہٹانا، دھوکہ دینے یا رکاوٹ ڈالنا منع ہے۔ قانون 41.5.2 کے مطابق یہ فیصلہ امپائر کریں گے کہ فیلڈر نے جان بوجھ کر دھوکا دیا یا محض اتفاق تھا۔اس معاملے میں امپائرز نے ڈی کوک کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی لیکن اگر کارروائی ہوتی تو قانون 41.5.3 لاگو ہوتا۔ قانون 41.5.3 کے مطابق اگر امپائر یہ سمجھتا ہے کہ فیلڈر نے جان بوجھ کر دھوکا دیا تو وہ جس گیند پر واقعہ پیش آیا اس کو ڈیڈ بال قرار دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں