داسو میں ہلاک 9 چینی انجینئرز کی لاشیں اپنے وطن روانہ

اسلام آباد: خیبر پختونخواہ کے اپر کوہستان کے علاقے داسو میں بس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں ہلاک 9 چینی انجینئرز کی ڈیڈ باڈیز نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے چین روانہ کردی گئیں۔سی پیک کے تحت چینی ماہرین کی نگرانی میں داسو ڈیم کی تعمیر جاری ہے۔ 14 جولائی کو منصوبے پر کام کرنے والے چینی ماہرین، مقامی مزدور اور ایف سی اہلکار داسو ڈیم کی سائٹ جارہے تھے کہ ان کی بس خوفناک دھماکے سے دریا میں جاگری جس کے نتیجے میں بس میں سوار 9 چینی انجینئرز، دو ایف سی اہلکار اور لیبر سمیت 13 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیاگیا۔
ابتدا میں وزارت خارجہ نے واقعہ کو حادثہ قرار دیا تاہم بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بارودی مواد کے شواہد منظر عام پر آنے اور دہشت گردی یا تخریب کے عنصر کے حوالے سے ٹویٹ کیا۔واقعہ کی اعلی سطح کی تحقیقات جاری ہیں ۔ جمعہ کی صبح ہلاک 9 چینی انجینئرز کی تابوتوں میں بند ڈیڈ باڈیز کو چین بھجوانے کے لیے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچایا گیا جہاں انھیں کارگو ٹرمینل میں رکھاگیا ہے۔ ڈیڈ باڈیز کو دوپہر 2 تین بجے پرواز نمبر GHT CA -42 کے ذریعے چین روانہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں