عام آدمی عمران خان کی توجہ کا منتظر

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی تین سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کا راستہ انتہائی کٹھن ہے اور کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت ہے کہ آج سے تین سال قبل پاکستان تحریک انصاف نے جب اقتدار سنبھالا تو ملک کی معاشی حالت نا گفتہ بہ تھی۔ حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2018-19ءکے دوران کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 19.2 ارب ڈالر تھا اور 210 سرکاری اداروں کا خسارہ 286 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جبکہ اس وقت کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد تحریک انصاف کو معاشی شعبے میں جس قسم کے نا موافق حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ یقینا غیر معمولی چیلنج تھے۔ ان حالات میں پاکستان کے گہرے دوست ممالک ہی کام آئے۔ چین‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ا ن ہنگامی حالات میں پاکستان کی زرمبادلہ کی صورت میں جو بھی امداد کی گئی‘ خواہ وہ قرضے کی صورت میں تھی یا اپنے ڈالر کے کھاتے پاکستان منتقل کرنے کی صورت میں‘ ڈانواں ڈول معیشت کو سہارا دینے میں اس سے بہت مدد ملی۔ اس لین دین نے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کو نئی شرائط طے کرنے میں بھی مدد دی۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ معاہدہ بہت پر کشش اور سود مند شرائط پر تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ جن حالات میں یہ اقدامات اٹھائے گئے انہیں مد نظر رکھنا اشد ضروری ہے۔ قرض کی شرائط قرض خواہ کی احتیاج کے پیش نظر طے ہوتی ہیں‘ جس صوُرت حال میں پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے سے یہ معاہدہ کیا‘ پاکستانی معیشت کی صحت کے اعتبار سے وہ بہت ہی نازک دور تھا۔ اس حکومت کے پہلے برسوں میں جو مہنگائی آئی اس میں ملک کے ان معاشی حالات اور سابق قرضوں کی شرائط کا بھی نمایاں اثر تھا۔ اس طرح مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند تر سطح پر پہنچ گئی۔ ملازمتوں کے مواقع‘ جو اس حکومت کے پہلے برسوں میں میسر نہ آسکے سخت معاشی نظم و ضبط کی وجہ سے پہلے ہی کم ہو رہے تھے‘ کورونا کی عالمگیر وبا نے ان پر مزید منفی اثرات مرتب کیے۔ اس طرح پاکستان کے عوام کے لیے دوہرے عذاب کی صورت پیدا ہو گئی کہ ایک طرف مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی‘ دوسری جانب ملازمتوں کے مواقع کی کمی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری ۔2020ءکو اس گمبھیر صورت حال کا نقطہ عروج کہا جا سکتا ہے مگر اس دوران پاکستان کے لیے جو بہتر امکانات پیدا ہوئے ‘ان میں کورونا وبا کا نسبتاً کم پھیلاﺅ سرِ فہرست ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی مہربانی تھی کہ اس دوران جب خطے کے ممالک حتیٰ کہ یورپ‘ برطانیہ اور امریکہ تک میں اس عالمگیر وبا نے تباہ کن حالات پیدا کر دیے تھے‘ پاکستان میں اس کا دباﺅ اس خطے کے بہت سے ممالک کی نسبت نمایاں طور پر کم رہا۔ اس دوران حکومت نے جو حقیقت پسندانہ فیصلے کئے وہ بھی اپنی جگہ پر اہم تھے جن سے کورونا وبا کی شدت کے دوران پاکستانی معیشت کو فعال رکھنے میں مدد ملی۔ یہ ایک حیران کن واقعہ تھا ‘جب دنیا بھر کی اور اس خطے کے ممالک کی معیشتیں کورونا وبا کے باعث زبردست دباﺅ میں تھیں‘ پاکستان میں صنعت کے نئے شعبوں پر کام کا آغاز ہو رہا تھا۔ کورونا وبا کے عین ہنگامے میں حکومت نے تعمیراتی صنعت کے لیے مراعات کا اعلان کر کے اس شعبے میں نئی سرگرمیوں اور اربوں روپوں کے منصوبوں کا آغاز کر دیا۔ تعمیرات کی صنعت‘ جس طرح معیشت کی فعالیت کا باعث بنتی ہے‘ ہمارے ملک میں ایک بنیادی ضرورت کو بھی پورا کرتی ہے۔ وہ ضرورت نئے گھر تعمیر کرنے کی ہے‘ تاحال پاکستان کی قابل ذکرآبادی جس کا خواب دیکھتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں سالانہ ساڑھے تین لاکھ گھروں کی طلب ہوتی ہے جبکہ تعمیر صرف ڈیڑھ لاکھ گھروں کی ہوتی ہے۔ اس طلب اور رسد کے تفاوت کو مد نظر رکھتے اور معیشت کے لیے تعمیراتی شعبے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس شعبہ کی جانب بھرپور توجہ دے کر معیشت کو فعال رکھنے کا ایک مو ثر ذریعہ پیدا کر لیا۔
اس دوران بعض برآمدی شعبوں کی حالت میں بھی سدھار پیدا ہوا جیسا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت ‘جس کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ بیرون ملک سے رقم واپس بھیجنے کے لیے بہتر اورآسان بینکنگ چینلوں پر خصوصی توجہ دے کر حکومت نے جائز راستے سے ترسیل زر میں اضافہ کیا اور اس کے نتیجے میں سمندر پار سے بھیجی جانے والی رقوم گزشتہ مالی سالی (2020-21 ) میں 23 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں‘ جو مالی سال 2019-20کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ تھیں۔ اس طرح ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر جو تین برس قبل ساڑھے سولہ ارب ڈالر تھے‘ اب 27 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور ٹیکس ریونیو جو تین برس قبل 3800 ارب روپے تھا‘ اب 4700 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ معاشی اشاریے اور کئی عالمی‘ علاقائی اور ملکی اداروں کی رپورٹیں اور سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت تین برس قبل کے سنگین بحران سے نکل آئی ہے ۔ اس وقت ملک میں معاشی نمو کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے مگر بہت سے مسائل بدستور موجود ہیں ‘جو فوری توجہ چاہتے ہیں۔ مثلاً سی پیک کے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور ان سے معاشی فوائد کا حصول ایک ایسا خواب ہے جسے حکومت تین برس میں کوئی شکل نہیں دے سکی۔
ملکی معیشت کو نمایاں طور پر ترقی دینے اور پاکستان کو اس خطے کی مضبوط معیشتوں کی صف میں کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے یہ منصوبے حکومتِ کی خصوصی توجہ چاہتے ہیں تاکہ ملک کی نوجوان اور کام کرنے کی خواہش مند آبادی کو روزگار مہیا کیا جا سکے‘ تاہم یہ سارے معاملات مائیکرو اکنامکس سے تعلق رکھتے ہیں‘ جو یقینی طور پر قومی معیشت کے استحکام کا باعث بنتے ہیں‘ لیکن عام آدمی حکومت سے جس ریلیف کی توقع لگائے بیٹھا تھا‘ جس کے لئے وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر اقتدار میں لایا‘ وہ پوری نہیں ہو سکی۔ یقینا اس کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اشیائے ضرورت خصوصی طور پر کھانے پینے کی اشیا ءکے نرخوں کو تیزی سے بڑھنے سے نہ روکا جا سکا‘ یوں ان تین برسوں میں روز افزوں مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید میں رکاوٹ بنی رہی۔ آٹے‘ چینی‘ کوکنگ آئل اور گھی کے نرخ اس عرصے میں دوگنا ہو گئے جبکہ لوگوں کی آمدنی میں اس نسبت سے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات ‘ بجلی اور گیس کی فی یونٹ قیمتوں میں بار بار اضافے کے بھی عام آدمی کی جیب پر منفی اثرات مرتب ہوئے‘ یوں عام آدمی کی قوتِ خرید کم ہو گئی جبکہ یہ صورت حال غربت میں اضافے کا باعث بھی بنی۔ مختصر یہ کہ حکومتی سطح پر معاشی ترقی کے دعووں کے اثرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پائے اور وہ آج بھی اسی طرح کے کسی مالی ریلیف کا منتظر ہے‘ جیسے تین سال قبل تھا۔ جمہوریت کی تعریف عام طور پر یہ کی جاتی ہے کہ ’عوام کی حکومت‘ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے اقدامات اٹھائے گی جس سے اس کی زندگی میں خوش حالی آسکے اور اُن پر مالی بوجھ کم ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں