حمزہ صاحب: شائستہ سیاست کا زریں باب

پاکستان ایک اور بزرگ سیاسی رہنما سے محروم ہوگیا۔ جناب حمزہ ایک نہایت مثالی زندگی گزار کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کا تعلق لدھیانہ کے مشہور علماءخاندان سے تھا۔ وہ مولانا محمد عبداللہ کے فرزند رشید اورمجلس احرار اسلام ہند کے صدر مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے بھتیجے تھے۔ مفتی محمد نعیم لدھیانوی، مفتی عبدالحمید لدھیانوی، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی اور مولانا محمد عمر لدھیانوی بھی اسی خاندان کے بطل جلیل تھے۔ اس خاندان نے تحریک آزادی میں نمایاں کردارادا کیا تھااورمفتی عبدالحمید لدھیانوی کے سوا سارے کا سارا خانوادہ کانگریس اور مجلس احرار اسلام کا ہم نوا رہا۔ جناب حمزہ پاکستان بننے کے بعد گوجرہ میں اورمفتی عبدالحمید لدھیانوی ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آباد ہوئے۔مفتی عبدالحمید قیام پاکستان کی جدوجہد میں قائداعظمؒ کے ساتھی رہے۔
حمزہ صاحب کو سیاست سے کوئی سروکار نہیں تھا اور وہ پولیس میں ملازمت کرنا چاہتے تھے اورمقابلہ کے امتحان میں پاس بھی ہوگئے تھے مگر خفیہ پولیس نے ان کے کوائف کی تصدیق کے بعد یہ رپورٹ کی کہ ان کے سارے خاندان کا تعلق مجلس احرار اسلام اور کانگریس سے رہا ہے اس لئے وہ سرکاری ملازمت کے لئے اہل نہیں ہیں۔ اس طرح پاکستان پولیس ایک دیانت دار اور دبنگ افسر سے محروم رہی ورنہ وہ آئی جی کے عہدہ سے ریٹائر ہوتے جیسا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک اورسپوت چودھری سردار محمد نیک نامی کی پولیس ملازمت کرکے پنجاب کے آئی جی کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔
جناب حمزہ اور میرے والد قاضی سراج الدین سرہندی کا دوستی اوربھائی چارے کا رشتہ اس وقت استوار ہوا جب پچاس کے عشرے میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لوگوں نے مفتی عبدالحمیدلدھیانوی کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا اور انتخاب کے تمام اخراجات کی ذمہ داری بھی شہر کے معززین نے اٹھائی جن میں میرے والد صاحب سر فہرست تھے، ہمارا گھر مفتی صاحب کا الیکشن آفس بنا۔ گوجرہ سے حمزہ صاحب اور خانیوال سے ان کے بہنوئی عبدالشکور صاحب انتخابات کے بنیادی کاموں میں رہنمائی کے لئے ہمارے گھر آنے لگے۔ اس طرح حمزہ صاحب پولیس کی ملازمت کا خواب دیکھتے دیکھتے عملی سیاست میں آگئے اور کئی سال بعد گوجرہ سے بی ڈی ممبر منتخب ہوئے ۔ میرے والد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ سے بی ڈی ممبر منتخب ہوئے۔1964ءمیں صدارتی انتخاب کا مرحلہ آگیا جس میں ایوب خان کا مقابلہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے ہوا ۔ دو نام نہاد امیدوار اور بھی تھے، میاں بشیر احمد اور کے ایم کمال جو کسی گنتی شمار میں نہیں تھے میرے والد صاحب قاضی سراج الدین سرہندی اور محترم حمزہ صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پولنگ سٹیشن پر مادر ملت کے پولنگ ایجنٹ تھے۔ پورے مغربی پاکستان میں مادر ملت کو سب سے زیادہ ووٹ اسی حلقہ انتخاب سے ملے تھے۔
جناب حمزہ کی عملی سیاسی زندگی کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ وہ رشوت کی لعنت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ اگر معمولی سے معمولی اور زیادہ سے زیادہ رشوت کی کوئی شکایت ان کے علم میں لائی جاتی تو وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک رشوت لینے والا وہ رقم واپس نہیں دے دیتا تھا۔
حمزہ صاحب نے نہایت صاف ستھری سیاسی زندگی بسر کی۔ انہوں نے سیاست سے عمر بھر لیا کچھ نہیں اور دیا بہت کچھ، وہ قائداعظم کے بتائے ہوئے سیاسی اصولوں اور اقدار کے سچے پاس دار تھے وہ تین مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ابتدائی دو انتخابات میں بھی ان کے انتخابی اخراجات گوجرہ اورٹوبہ کے لوگوں نے خود اٹھائے وہ سائیکل کا زمانہ تھا۔ سیاست دانوں کے پاس کاریں اور پجارو گاڑیاں نہیں آئی تھیں۔ دیہات اور قصبات میں عوامی رابطہ کا واحد ذریعہ سائیکل کی رفاقت تھی۔ پنجاب اسمبلی اور مغربی پاکستان اسمبلی میں حمزہ صاحب، خواجہ محمد صفدر اور امیر حبیب اللہ خان سعدی، مردانہ وار ایوبی آمریت کے خلاف صف آرا رہے۔ حمزہ صاحب نے آخری انتخاب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر لڑا تھا۔ وہ گوجرہ سے قومی اسمبلی کے رکن بنے اور جب انہوں نے ایک انتخاب ہارا تو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے انہیں سینیٹر منتخب کرایا، ان پر (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ایک بار جب مسلم لیگ (ن) مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہو رہا تھا اور میاں صاحب تقریر کرنے کے لئے اپنی نشست سے اٹھے تو انہوں نے جناب حمزہ کی عزت افزائی کے لئے انہیں اپنی نشست پر جلوہ افروز کیا مگر اعتماد کا یہ رشتہ اس وقت ٹوٹ گیا جب گزشتہ انتخابات میں میاں شہباز شریف نے ان کے صاحبزادے اسامہ کو ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا اور حمزہ صاحب کے ایک سیاسی حریف کو ٹکٹ دے دیا ۔ اسامہ نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اورناکام ہوئے مگر تیس پینتیس ہزار وٹوٹ لے کر، اس طرح حمزہ صاحب کی سیاست ختم ہوئی اورگزشتہ ہفتے شائستہ اور بااصول سیاست کا ایک زریں باب ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔ اُن کی نماز جنازہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف پاکستان، پاکستان پیپلز پارٹی اور دینی جماعتوں کے رہنماﺅں اور کارکنوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی جو اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے دور دور سے امڈ آئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں