38

رحم دِل کویتی مالک نے اپنے درجنوں کرایہ داروں کا کرایہ معاف کر دیا

کویت میں کورونا مریضوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے کورونا پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم لاکھوں غیر مُلکی اور تارکین وطن تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کی وجہ سے گھروں تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور کئی افراد کو روٹی روزی کی فکر لگ گئی ہے۔ کویت میں کچھ انتہا پسند سوچ والے مقامی افراد کورونا وائرس پھیلنے کی ذمہ داری غیر ملکیوں پر تھوپ کر انہیں مملکت سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو دوسری طرف انسانیت نواز کویتیوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔
کویتی اخبار القبس نے ایک ایسے ہی رحم دل کویتی مالک عید ثامر العازی کے بارے میں خبر شائع کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کویتی مالک العازمی نے کورونا وائرس کے باعث حالیہ بحران سے پریشان اپنی رہائشی عمارت کے تمام کرایہ داروں کو کرایہ معاف کر دیا ہے۔

اس رہائشی عمارت میں درجنوں غیر ملکی مقیم ہیں۔ چند روز قبل العازمی اپنی رہائشی بلڈنگ کے باہر پہنچ گیا اور تمام مکینوں کو اُونچی آواز میں مخاطب کر کے انہیں کاہ کہ میں نے تم لوگوں کی پریشانی میں تمہارا کرایہ معاف کر دیا ہے۔

اگر تم لوگوں کے پاس اسٹیٹ ایجنسی کا نمائندہ کرایہ وصول کرنے آئے تو اسے کرایہ نہ دینا، بلکہ کہہ دینا کہ مالک سے بات کر لو۔ اللہ ہم سب کو اس آزمائش کی گھڑی سے نکالے گا۔ تم لوگوں پر تنگی کا وقت ہے۔ میں اس مشکل وقت میں کرایہ وصول کر کے کتنادولت مند بن جاؤں گا۔ جب تک میں خود آپ سے کرایہ نہ مانگوں، آپ لوگوں نے خود سے کرایہ نہیں دینا۔ اگر آپ میں سے کسی کے پاس خالی کمرے ہیں تو آپ بے گھر افراد کو بھی اپنے پاس ٹھہرا سکتے ہیں۔
کویتی باشندے کے اس مہربان رویئے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہی ہے۔ ایک ٹویٹر صارف کا کہنا تھا کہ العازمی نے کورونا بحران ختم نہ ہونے تک کرایہ وصول نہ کرنے کا جو انتہائی شاندار فیصلہ کیا ہے۔ اس نے صحیح معنوں میں کویتیوں اور عربوں کی اعلیٰ اقدار کی نمائندگی کی ہے۔ اس کا اجر اسے اللہ کے ہاں مِلے گا۔دوسری طرف کویت میں صفاء الہاشم جیسی تارکین وطن کی سخت مخالف بھی ہیں۔
متنازعہ حیثیت کی حامل خاتون رُکن پارلیمنٹ صفاء الہاشم نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاوٴ کی روشنی میں حکومت فوری فیصلہ کرتے ہوئے ملک سے غیر ملکیوں کو بے دخل کرے۔جمعے کے روز ٹویٹر پر جاری بیان میں صفاء نے کہا کہ “یقینا ان حالات میں زیادہ تر غیر ملکیوں کی موجودگی کویت کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ ان لوگوں کا ضرر ان کے فائدے سے زیادہ بڑا ہے۔
اس لیے کہ یہ لوگ کرونا کی وبا پھیلانے کا ایک بڑا سبب ہیں۔ لہذا ان غیر ملکیوں کی اپنے وطنوں کو واپسی کرونا وائرس کے خطرے کو روک لگا دے گی اور آبادی کے تناسب کے مسئلے کو بڑی حد تک حل کر دے گی”۔اسی طرح مذکورہ خاتون رکن پارلیمنٹ نے فیس بک پر پوسٹ میں لکھا کہ “ملک میں کرونا وائرس کے کیسوں کی اتنی بڑی تعداد سامنے آنے کے بعد حکومت پر لازم ہے کہ وہ بنا کسی ہچکچاہٹ کے اْن تمام غیر ملکیوں کو بے دخل کرے جو کام نہیں کر رہے ہیں۔ یہ افراد Marginal Employment کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں