کراچی: (روزنامہ جرأت)امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ سسٹم کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعتراف جرم کرلیا ہے، فارم 47 کے مسلط کردہ اور کروانے والے دونوں ناکام ہوگئے ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ جتنی ذمہ داری مارشل لاء کی ہے اتنی ذمہ داری مسلط ہونے والوں کی ہے، جن لوگوں کو 17 سیٹیں نہیں ملیں انکو پنجاب دیا گیا ہے، فارم 47 سے آصف زرداری صدر بنے ہیں، ان کا میئر بھی فارم 47 کی پیداوار ہے، جو جیتا تھا اس کو آنے دیں سسٹم ٹھیک ہوجائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور غیر ضروری معاملات زیرِ بحث لائے جا رہے ہیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان نورا کشتی جاری ہے، بلاول بھٹو زرداری خود بھی فارم 47 کی پیداوار ہیں اور جب اقتدار میں حصہ کم ہوتا ہے تو شور مچایا جاتا ہے۔ منتخب نمائندوں کو اقتدار سنبھالنے دیا جائے تو نظام بہتر ہوسکتا ہے، انسانوں کی منڈی لگانا آئینی راستہ نہیں، تمام سیاسی قوتوں نے مل کر نظام کو خراب کیا ہے، صرف بیانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے مہنگا پیٹرول فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ ایکس ریفائنری قیمت کے لحاظ سے بھی پیٹرول مہنگا ہے، قیمتیں بڑھانے کا سلسلہ روزانہ جاری ہے لیکن کمی کی جاتی ہے تو صرف چند پیسے کم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی کو ’جَگا ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مہنگی ہو جاتی ہیں اور حکومت تمام بوجھ عام آدمی پر ڈال رہی ہے، دنیا بھر میں ایسے حالات میں معاشی ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے جبکہ یہاں حکمراں ہر معاملے پر آئی ایم ایف پروگرام کا جواز پیش کرتے ہیں اور قوم کو مشکلات میں دھکیل رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے سے زیادہ بجلی نہ بنانے پر اخراجات کیے گئے جس کے منفی اثرات عوام پر پڑ رہے ہیں، عوام کو متحد ہو کر فیصلہ کرنا ہو گا، اسی لیے 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔آزاد کشمیر کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے اگرچہ فوری حل نظر نہیں آرہا، کشمیر کے لوگ ہمارے اپنے ہیں، ثالثی کی بات کرنا غلط نہیں تاہم افسوس ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور وفاقی حکومت نے مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔



